ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 246 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 246

ادب المسيح 246 روایت ہے کہ آپ حضرت ان اشعار کو پڑھ کر زارو قطار روتے تھے اور کہتے تھے کہ کاش یہ شعر آپ نے کہے ہوتے اور مرنیے کے انداز میں فاطمہ زہرا بتول کے یہ دو اشعار بھی ہمیں بہت محبوب ہیں۔فرماتی ہیں۔ماذا علـى مـن شـم تـربة احمد ان لايشم مدى الزمان غواليا جس نے احمد (ﷺ) کے قبر کی مٹی سونگھی اور اگر وہ عمر بھر کوئی عطر نہ سونگھے تو اس کا کیا نقصان ہوگا؟ ( یعنی عمر بھر اس کو کسی عطر کے سونگھنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی ) صبت على مصائب لو انها صبت على الايام صرن لياليا مجھ پر وہ مصائب پڑے ہیں کہ اگر دنوں پر یہ مصائب ڈالے جاتے وہ راتوں میں تبدیل ہو جاتے۔نعت رسول کریم ایسے صاحب انصاف اور صاحب بصیرت لوگوں نے بھی بیان کی ہے جن کا آپ حضرت سے روحانی رشتہ بھی نہیں تھا اور مصاحبت بھی نہیں تھی۔ان ہستیوں میں جو سب سے زیادہ محبوب ہستی ہے اور جس کی برجستہ نثری نعت کو آپ کی امت نے ایسا قبول کیا ہے کہ آج تک اُس کا نام عاشقان رسول اکرم کے حلقوں میں احترام اور محبت سے یاد کیا جاتا ہے اور اس نثر پر ہزار نظم قربان کی جاسکتی ہے۔ایک بادیہ نشین صحرا گزین خاتون تھی جن کا نام ام معبد تھا۔ہمارے پیارے آقا اور مطالع سے ان کی ملاقات ایسے ہوئی کہ جب آپ حضرت مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف سفر کر رہے تھے تو سر راہ اُن کا خیمہ تھا۔آپ کے قافلے نے وہاں قیام کیا اور خاتون سے کہا کہ اگر تمہارے پاس کچھ کھانے پینے کو ہے تو دو۔اس خاتون نے کہا کہ افسوس ہے کہ کچھ پیش کرنے کو نہیں ہے۔بکریاں صحرا میں چرنے کے لیے جاچکی ہیں۔آنحضرت نے ایک بکری کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ اس بکری کا دودھ ہی کافی ہوگا۔اس پر خاتون کہنے لگی کہ یہ تو ایک کمزور بکری ہے اسی وجہ سے اس کو ریوڑ کے ساتھ روانہ نہیں کیا گیا۔آپ حضرت نے فرمایا کہ اگر تم اجازت دو تو میں اس کا دودھ دوہ لوں۔اُس نے کہا کہ ضرور ایسا کریں۔آنحضرت نے بسم اللہ پڑھ کر اس کے تھن پر ہاتھ رکھا اور ایک برتن مانگا تو اس کا دودھ لبریز ہوکر زمین پر گر نے لگا۔آپ نے خود بھی نوش فرمایا اپنے ساتھیوں کو بھی پلایا اور بہت سا باقی ماندہ ام معبد کو بھی دیا۔کچھ دیر کے بعد جب اس کا خاوند آیا اور اس نے دودھ سے لبریز برتن دیکھا تو استفسار کیا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے۔اس سوال کے جواب میں ( میرے یقین کے مطابق ) اس خاتون کی زبان اور چشم بصیرت کو اللہ نے خاص برکت سے نوازا اور اس نے آپ کے حسن و جمال اور آپ کے وقار اور تمکنت اور آپ کے غلاموں کی اطاعت کو ایسی فصاحت و بلاغت اور ایسی بصیرت سے بیان کیا کہ آثار اور روایت میں رسول اکرم کا ایسا سراپا کوئی پیش نہ