ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 236 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 236

ب المسيح 236 عربی زبان میں ثناء باری تعالیٰ اسلامی ادب میں حمد وثنا اور نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ایسے موضوع ہیں جن کو فارسی اور اردو زبان کے شعراء نے بہت محبت سے قبول کر کے نغمہ سرائی کی ہے۔یہ قبولیت صرف جستہ جستہ شعر کہنے تک محدود نہیں بلکہ بہت سے ایسے بلند مرتبہ شاعر ہیں جنہوں نے ان موضوعات کو اپنا خاص اور مستقل موضوع سخن بنالیا تھا۔عربی زبان میں ایسی روایت قائم نہیں ہو سکی شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عربی ادب میں ان موضوعات کا تعارف قرآن کریم کی برکت سے ہوا ہے اور ایسی عظیم الشان ادبی شان وشوکت کے ساتھ ہوا ہے کہ سب ادیب دم سادھ کر بیٹھ رہے اور کسی کو گویائی کا یارا نہ ہوا۔اس خیال کی تائید میں یہ واقعہ بھی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت لبیڈ سے ان کا تازہ کلام سُنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے جوابا کہا کہ قرآن کے نزول کے بعد آپ نے شعر کہنا ترک کر دیا ہے۔(سیرۃ النبی شبلی نعمانی) مگر خاکسار کے خیال میں عربی ادب میں یہ حادثہ اس لیے پیش آیا کہ اسلامی تاریخ میں ایک امام آخر زمان نے آنا تھا اور یہ افتخار اُسی کے نصیب ہونا تھا کہ عربی شعر میں ان موضوعات کو حرز جان بنائے اور عربی ادب میں ان کو اپنے کلام کا محور اور مقصود بنائے جیسا کہ آپ حضرت فرماتے ہیں۔انْتَ الْمُرَادُ وَ اَنْتَ مَطْلَبُ مُهْجَتِي و علیک كُلُّ تَوكَّلِي وَ رَجَائِي تو ہی میری مراد اور تو ہی میری روح کا مطلوب ہے اور تجھ پر ہی میرا سارا بھروسہ اور اُمید ہے أنتَ الذي قد كان مَقْصِدَ مهجتى في كل رَشُح القلم و الاملاء تو ہی میری جان کا مقصود تھا قلم کے ہر قطرہ اور لکھائی ہوئی تحریر میں اس فرمان کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ آپ حضرت کا عربی شعری کلام کبھی بلا واسطہ اور کبھی بالواسطہ ان ہی پر مشتمل ہے۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت و شان۔اس کی محبت اور اس کی جناب میں مناجات موضوعات پر سے بھر پورر ہے نہایت اختصار کے پیش نظر ہم آپ کی حمد و ثنا کے چند نمونے پیش کرتے ہیں۔اول: آپ معبود حقیقی کی جناب میں عرض کرتے ہیں۔لک الحمد یا ترسی و حرزی و جوسقی بحمدک يروى كل من كان يستقى اے میری پناہ اور میرے قلعہ ! تیری تعریف ہو، تیری تعریف سے ہر ایک شخص جو پانی چاہتا ہوسیراب ہو جاتا ہے