ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 131 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 131

131 ادب المسيح اول جاہلیہ کے شاعر ابوالغول کا شوق جنگ و جدال اور تفاخر کا مشاہدہ کریں فَدَتْ نَفْسِى وَ مَا مَلَكَتْ يميني فَوَارِسَ صَدَّقَتْ فِيْهِمْ ظُنُونِي میری جان اور میرا سارا مال ان شہ سواروں پر قربان ہو جنہوں نے اپنے متعلق میرے خیالات کو سچ کر دکھایا۔( شہسواروں کے متعلق جیسے میرے نظریات تھے وہ ویسے ہی بیباک اور بہادر ثابت ہوئے۔) فَوَارِسَ لَا يَمَلُّونَ الْمَنَايَا إِذَا دَارَتْ رَحَى الحَرْبِ الزَّبُون وہ ایسے شہسوار ہیں جو موتوں کی سختیوں سے تنگ دل نہیں ہوتے۔جب فنا کر دینے والی جنگ کی چکی گھومنے لگتی ہے۔وَلَا يَجُزُونَ مِنْ حَسَنِ بِسَىءٍ وَلَا يَجُزُونَ مِنْ غِلظ بِلِينِ وہ نیکی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے اور نہ بختی کے بدلے نرمی کرتے ہیں۔بلکہ سختی کاسختی اور نرمی کا نرمی سے بدلہ دیتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ وہ تمام موضوعات شعر جاہلیہ جن کا گذشتہ میں ذکر ہوا اسی ایک نمونہ شعر میں یکجا دستیاب ہیں۔جنگی شاہ سواروں کا بھی ذکر ہے۔دلیری اور بہادری میں فخر و مباہات بھی ہے اور تیسرے شعر میں اپنے اخلاقی دستور کو بھی ایک باغیرت اور احسان کا بہتر بدلہ دینے والی قوم کے طور پر بیان کر دیا ہے۔گو اس مثال میں خالص میدان جنگ کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔جہاں اس کے قبیلے کے سوار موت وحیات سے بے پرواہ ہو کر اپنی اپنی جنگی شجاعت اور آداب جنگ و جدال کا نظارہ دکھا رہے ہیں۔تاہم اخلاقی خوبی بھی بیان ہے مگر مبارزت کے ساتھ۔اب ایک ایسی مثال بھی دیکھ لیں جس میں تفاخر اور مباہات بھی ہے مگر تغزل بھی۔جو کہ عربی شاعری کے اجزائے اعظم میں سے ہے۔انا محبّوكَ يَا سَلْمَى فحيينا وان سقـيـت كـرام الناس فاسقينا اے سلمی ہم تجھ کو سلام کرتے ہیں تو تو بھی ہمیں سلام کر اور اگر تو صرف شرفاء کو شراب پلاتی ہے تو ہمیں پلا۔و ان دَعَوتِ إِلى جُلَّى وَ مَكْرُمَةٍ يَوْمًا سَرا ةِ كِرَامِ النَّاسِ فادعينا اگر تو کسی دن لڑائی یا سخاوت کے لیے شریف زادوں کو بلائے تو ہمیں بھی بلا ہم بھی اس کے اہل ہیں۔إن تُبدَ رُغَايَةٌ يَومًا لِمَكْرُمَةٍ تَلقَ السَّوَابِقَ مِنَّا وَ الْمُصَلَّيْنَا اگر کسی دن عزت کے کسی کام کے لیے مقابلہ ہو اور لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں تو اوّل اور دوم نمبر پر ہمارے گھوڑے ہوں گے اور پیچھے دوسروں کے۔اب دیکھ لیں نفسِ مضمون میں اپنی طرف التفات اور توجہ کی التجا ہے۔مگر اس کا جواز عشق و محبت نہیں بلکہ