ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 78
ب المسيح 78 عیسائیوں پر ابلاغ رسالت قرآن کریم کی شان کے مقابل پر انجیل کو پیش کرنے کی دعوت۔اور اس دعوت میں یہ فرمانا کہ اگر تم ایسے کوتاہ بین ہو کہ قرآن کی عظمت کو دیکھ نہیں سکتے تو اپنے کان ہی استعمال میں لاؤ اور مجھ سے اس کی عظمت وشان کا بیان سُن لو۔اگر شوق نہیں تو امتحان کے طور پر ہی سُن لو۔بہت ہی خوبصورت بیان ہے۔آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی یونہی امتحان سہی سیہ وہ خالص اردو زبان کا اسلوب ہے جس کو ہم نے بتایا ہے کہ تمام شعراء اردو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔شرماؤ! فرماتے ہیں۔آؤ عیسائیو! ! ادھر آؤ!!! نُور حق دیکھو! راہ حق پاؤ! جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ! خالق ہے اُس کو یاد کرو یونہی مخلوق کو سر پہ نہ بہکاؤ! کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ! کچھ تو خوفِ خدا کرو لوگو کچھ تو لوگو! خدا اے عزیزو! سنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں اُن پہ اُس یار کی نظر ہی نہیں ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر کہ بناتا ہے عاشق دلبر بات جب ہو کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اُس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سُنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی یوں ہی امتحان سہی