ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 58
المسيح 58 تمام مرسلین باری تعالیٰ نے ابلاغ رسالت کی خدمت اپنی قومی اور مادری زبان میں ادا کی ہے زمرہ مرسلین علیہم السلام میں حضرت اقدس علیہ السلام کی ایک واحد شخصیت ایسی ہے جس نے ایک زبان سے زائد زبانوں یعنی تین زبانوں میں اس خدمت عالیہ کو سرانجام دیا ہو۔(اردو۔فارسی اور عربی) ہم دعوئی سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے ان تینوں زبانوں کے GENIUS یعنی روح رواں اور کلاسیکی معیار کو صرف برقرار ہی نہیں رکھا بلکہ اس کو مزید وسعتوں سے ہمکنار کیا ہے۔ہر زبان کی روح اور انتخاب الفاظ کو ملحوظ خاطر رکھنا اور تینوں زبانوں کے مزاج اور معنوی اسلوب کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا ادب عالیہ تخلیق فرمایا ہے۔یہ بات درست ہے کہ مرسل اپنی قومی زبان میں ہی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ۔۔۔۔الخ) (ابراهيم: 5) اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان ہی میں بھیجا ہے۔تا کہ وہ اُنہیں ہماری باتیں کھول کر بتائے ) اور حضرت سے قبل ایسا ہی ہوتا رہا۔مگر حضرت اقدس کی بعثت کیونکہ رسول اکرم کی امت کے مہدی اور مسیح کے طور پر تھی اور آپ نے امت محمدیہ کی اصلاح احوال کرنی تھی اور اُس کو دوبارہ صحیح اسلام پر لا نا تھا اور اسوۂ رسول اکرم کو زندہ کرنا تھا۔مگر وہ امت آپ کے وقت تک تین زبانوں میں پھیل چکی تھی یعنی عربی۔فارسی اور اردو۔اس لیے گو یہ ایک امتیازی اور منفرد خصوصیت ہے مگر در حقیقت اپنے آقاء نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی پاسداری میں عطا ہوئی ہے اور اس واقعاتی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آپ حضرت کو تین زبانوں پر قدرت عطا کی گئی ہے۔اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت اقدس اپنے الہامات کی عربی زبان میں نازل ہونے کی وضاحت میں فرماتے ہیں: اس کا اصل سریہ ہے کہ صرف تعلق جتلانے کی غرض سے عربی الہامات ہوتے ہیں کیونکہ ہم تابع ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کہ عربی تھے۔ہمارا کاروبارسب ظلی ہے اور خدا کے لیے ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 597۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور فرماتے ہیں: اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض ہوا تھا کہ کسی اور زبان میں الہام کیوں نہیں ہوتا تو آپ پر اللہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں الہام کیا این مشت خاک را گر نه خشم چه کنم (ترجمہ: اس مٹھی بھر خاک کو اگر معاف نہ کروں تو کیا کروں ) ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 598۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )