ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 59 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 59

59 ادب المسيح آپ حضور اس الہام کے باطنی عرفان کو بیان کرتے ہوئے معنی کرتے ہیں آخر کار خدا کی رحمت کا روبار کرے گی“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 598۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اب دیکھ لیں کہ آپ حضرت اقدس نے کسی وضاحت سے آیت کریمہ کے رموز کو بیان کر دیا ہے۔اول یہ کہ آپ جس ہستی کے تابع ہیں اُسی کی قوم اور اُمت کو تبلیغ رسالت کرنا آپ کے ذمہ ہے کیونکہ آنحضرت کی امت کا کثیر حصہ تین زبانوں میں وسعت اختیار کر گیا ہے اس لیے درحقیقت یہ تینوں زبانیں بولنے والے آپ ہی کی قوم ہیں۔دوم یہ کہ اس وجہ سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے تین زبانوں پر قدرت عطا کی تا کہ آپ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ “ کا فریضہ ادا کرسکیں جب کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ خصوصیت اور قدرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا تین زبانوں میں وسعت پذیر ہونے کی بنا پر ہے مگر اس امر سے انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ عنایات خاص ایک علمی اور ادبی عظمت وشان ( کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معجز نمائی بھی ہے۔اس مضمون میں حضرت اقدس کا بیان بھی ہے مگر اس خیال سے کہ اول آپ کی تین لسانی عظمت کی وضاحت میں کچھ بیان آجائے اور پھر حضرت اقدس کا بیان درج ہو، تاکہ یہ حقیقت بھی کھل جائے کہ اسلامی زبانوں میں ابلاغ رسالت کرنا ایک القاء باری تعالی یعنی حکم الہی تھا جس کو آپ نے کمال خوبی کے ساتھ سرانجام دیا۔آپ انجام آتھم میں علماء ومشائخ ہند کے نام عربی میں ایک مکتوب تحریر فرما کر اس امر کی وضاحت فرماتے ہیں۔ولما كان المقصد ان يتبيّن الحق الذي جئنا به لِكُلّ تقى وَسَعيد مِن قريب وبعيد۔ألقى في روعي ان اكتب هذا المكتوب في العربية واترجمه بالفارسية و ارعى النواظر في النواضر الاصلية و اوسع التبليغ بالالسن الاسلامية ليكون بلاغًا تامًا للطالبين۔و ہرگاہ کہ مقصود این بود که بر هر پرہیز گارے و نیک نہادے آن امر حق ہویدا گردد که ما آوردیم گوآن مرد از سرزمین قریب باشد یا از بعید الہذا در دلم انداخته شد که این مکتوب را در زبان عربی بنویسم و ترجمه آن در فارسی کنم و نظار گیاں را در چراگاه اصلی سیر کنانم و بزبان ہائے اسلامیان تبلیغ را وسیع کنم تا برائے طالبان این تبلیغ بمرتبہ کمال رسد۔ترجمه از مرتب دراصل مقصد یہ تھا کہ ہر نیک نہاد پر ہیز گار پر یہ حقیقت واضح ہو جائے خواہ وہ انسان قریب کی سرزمین یا بعید کی سرزمین کا باشندہ ہو )۔اس لیے میرے دل میں