ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 57
57 ادب المسيح معجزہ دکھانا نہیں چاہتے اس لیے ڈھب کا لفظ استعمال کیا ہے ڈھب اردو زبان میں کسی فریضے کے قرینے۔ادا کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔یعنی جس سے مطلب پورا ہو جائے۔خواجہ میر درد نے کیا خوب کہا ہے۔میں نے تو کچھ ظاہر نہ کی تھی دل کی بات وہ مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا یعنی میری نظروں نے میرا پیغام پہنچا دیا۔آپ کا یہ فرمان تو ہے کہ شعر گوئی میں آپ کا مقصد شعر و شاعری نہیں ہے۔مگر اس حقیقت کو کیسے فراموش کیا جائے کہ جن زبانوں میں آپ نے شعر کہے ہیں وہ ان زبانوں کے اسلوب کی مکمل پاسداری کے ساتھ کہے ہیں۔اور ایک صاحب زبان کی تمام لسانی خوبیوں اور ادبی حسن و جمال کیساتھ کہے ہیں۔آپ حضرت کا تین زبانوں کی مختلف اقدار ادب اور اسالیب بیان کی مطابقت میں کلام کرنا اور اس طرح سے کلام کرنا کہ آپ ان زبانوں میں اجنبی نہیں بلکہ اہل زبان معلوم ہوں۔اور پھر ایسا ہو کہ آپ کے اختیار کردہ موضوعات میں تینوں زبانوں کا کوئی بھی ادیب اور شاعر آپ کے حسنِ بیان کے مقابل پر دم نہ مار سکے ایک عظیم الشان ادبی معجزہ ہے ایک ایسا معجزہ جس کو تنزیل کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔یہی وہ بات ہے جو گذشتہ میں کہی جا چکی ہے۔آپ حضرت فرماتے ہیں:۔چوں حاجتے بود با دیپ دگر مرا من تربیت پذیر زرب میمنم ترجمہ: مجھے کسی اور استاد کی ضرورت کیوں ہو۔میں تو اپنے خدا سے تربیت یافتہ ہوں اس وقت تک جو کچھ کہا گیا ہے اس میں تکرار بھی ہے اور قدرے طوالت بھی مگر شعر و سخن کے محاسن کی تلاش میں ہر راہ گذرا سی ایک محبوب منزل کی طرف لوٹ آتی ہے اور محبوب کے محسنات ادبی کا ذکر ہو تو کیونکر طویل نہ ہو۔حدیث دلکش و افسانه از افسانه می خیزد دگر از سرگرفتم قصه زلف پریشان را یہ دل کو لبھانے والی بات ہے اس لئے بات سے بات نکلتی ہے۔اس لیے میں نے پھر سے محبوب کی زلف پریشاں کا ذکر چھیڑ دیا ہے۔دراصل گذشتہ میں جو کہا گیا ہے وہ حضرت اقدس کی اس منفرد اور ممتاز ادبی شان کے تعارف کے طور پر ہے کہ ابلاغ رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے تعلق میں حضرت اقدس کا ایک منفرد مقام ہے۔وہ ایسے کہ دیگر