ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 51 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 51

51 ادب المسيح آپ دیکھ لیں حاتی اسلام کی شان کو دنیا کی جاہ وحشمت کا حصول سمجھتے ہیں یا اگر بہت نرمی سے تجزیہ کیا جائے تو دنیا میں اقتدار اور بادشاہت کے ختم ہونے کو اسلامی تعلیم سے دور ہونے کی وجہ گردانتے ہیں۔دوسری طرف نگاہ کریں کہ حضرت اقدس دین اسلام کو قرب الہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اس میں اس کی شان اور عظمت گردانتے ہیں۔فرمایا: اسلام سے نہ بھاگو راہ ھدی یہی ہے ملتی اے سونے والو جاگوشمس الضحی یہی ہے ہے بادشاہی اس دیں سے آسمانی اے طالبانِ دولت ظل ہما یہی سب دیں ہیں اک فسانہ شرکوں کا آشیانہ ہے اس کا ہے جو یگانہ چہرہ نما یہی ہے اب دیکھ لیں کہ دونوں نظریات میں کس قدر تفاوت راہ ہے۔آپ حضرت کا تیسرا اور چوتھا موضوع شعر جو کہ اسلامی ادب میں بے نام ونشان ہے ان کے عنوان ” نعت صحابہ کرام اور ضرورت الہام ہے۔اول تو موضوعات شعری میں ” بعد از تلاش بسیار چند اشعار مل جاتے ہیں تو ان دو عنوانات میں تو وہ بھی دستیاب نہیں۔اس کی حقیقی وجہ تو یہ ہے کہ صحابہ کرام کی فدائیت اور عشق رسول اکرم کی حقیقی عظمت کا شعور اُسی کو ہوسکتا ہے جو رسول اکرم پر اُسی طور سے جان و دل نثار کرتا ہو جیسے کہ آپ کے صحابہ کرتے تھے۔جیسے فرمایا۔مسیح وقت اب دنیا میں آیا مبارک وہ جواب ایمان لایا خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا صحابہؓ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی ئے ان کو ساقی نے پلا دی فسبحان الذي اخذى الاعادي اگر نعتِ صحابہؓ ادب میں مفقود ہے تو ضرورت الہام کا عنوان تو یکسر اور یک قلم نا پید ہے۔ایسا ہونا لازم ہی تھا۔کیونکہ الہام الہی کی عظمت اور شان کو اور اُس کی برکت سے تسکین اور یقین کامل کی کیفیات کو وہی بیان کر سکتا ہے جو صاحب وحی والہام ہو اور صرف صاحب وحی اور الہام ہی نہیں بلکہ جس کو حضرت اقدس کی طرح سے