ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 50 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 50

ب المسيح 50 ان موضوعات میں سب سے اول تو نعت قرآن کریم ہے کہ اسلامی ادب میں اس کا نام ونشان نہیں ملتا اگر کسی نے کچھ کہا ہے تو وہ بھی برسبیل تذکرہ کہا ہے اپنے کلام کا موضوع نہیں بنایا۔جیسے حالی نے منصب رسول اکرم کے بیان میں کہدیا۔اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا مس خام کو جس نے کندن بنایا کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا اچھی بات ہے مگر برسبیل تذکرہ ہے اور قرآن کریم کی عظمت کو قدرے تفصیل سے بیان نہیں کیا۔صاف نظر آرہا ہے کہ اختصار مطلوب ہے۔اس طور پر مسلمان شاعروں میں ایک دو شعرمل جائیں گے اور بس۔کسی نے خوب کہا ہے۔سرسری اُن سے ملاقات تھی گا ہے گا ہے صحبت غیر میں گا ہے سرِ راہ گا ہے مگر دوسری طرف حضرت اقدس کو دیکھو کہ قرآن کریم کی محبت اور عظمت کے بیان میں آپ ایک عاشق کی طرح سے رطب اللسان اور کثیر البیان ہیں۔آپ نے کتنی سچی بات کی ہے اور فرماتے ہیں دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے ز عشاق فرقان و پیغمبریم بدین آمدیم و بدین بگذریم ہم قرآن اور آنحضرت کے عاشقوں میں سے ہیں اسی پر ہم آئے ہیں اور اسی حالت میں گذر جائیں گے۔دوسرا موضوع شعر جو اسلامی ادب میں نا پید ہے وہ صداقت اور حمایت دینِ اسلام“ ہے اگر چند اشعار کہیں ملتے ہیں تو مسدس حالی میں مگر وہ بھی بنیادی طور پر قومی اور ملی گم گشتہ عظمت و شان کا نوحہ ہے یہ بات تو درست ہے کہ حالی حقیقی تعلیم اسلام کو فراموش کرنے کو اور اسوہ رسول اکرم سے بے اعتنائی برتنے کو ہی ملی اور قومی انحطاط و شکست کا موجب سمجھتے تھے مگر انہوں نے قرآن کی صداقت اور اس کی تعلیم کی عظمت کو ایک موضوع کے طور پر اختیار نہیں کیا۔چندا شعارسن لیں: نہیں قوم میں گرچہ کچھ جان باقی نہ اس میں ہے اسلام کی شان باقی نہ وہ جاہ وحشمت کے سامان باقی پر اس حال میں بھی ہے اک آن باقی بگڑنے کا گوان کا وقت آ گیا ہے مگر اس بگڑنے میں بھی اک ادا ہے