ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 49
49 ادب المسيح رکھتے ہیں البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے دیگر تمام موضوعات ان ہی بنیادی موضوعات کے ذیل میں آتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ الہیات ایک مربوط موضوع علم و ادب ہے۔باری تعالیٰ کی ذات وصفات اس کی تجلیات کے تمام مظاہر اس کی تخلیق اس کے دائرہ ادب میں آتے ہیں۔ان سب کا باہم ایک رابطہ ہے جیسے ایک زنجیر کی کڑیاں ہوں اور زنجیر عروہ وثقی سے منسلک ہو۔اس لیے حضرت اقدس کے تمام عنوانات شعر ایک ہستی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو ان کا محبوب حقیقی ہے یعنی باری تعالیٰ عزّ وجل۔آپ حضرت نے اس مضمون کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا اور فارسی میں اس حقیقت کو بے انتہا درد کے ساتھ بیان کرتے ہیں: ہر سوي و هر طرف رخ آں یار بنگر آں دیگرے کجاست که آید بخاطرم ترجمہ: میں ہر طرف اور ہر جانب اُس یار کا چہرہ دیکھتا ہوں۔پھر اور کون ہے جو میرے خیال میں آئے۔اور افسوس سے کہتے ہیں: اے حسرت ایں گروہ عزیزاں مرا ندید وقتے به ببیندم که ازین خاک بگذرم ترجمہ: افسوس کہ عزیزوں نے مجھے نہ پہچانا۔یہ مجھے اس وقت جائیں گے جب میں اس دُنیا سے گزر جاؤں گا آپ حضرت کے بنیادی موضوعات کے ذیل میں جن عنوانات کو پیش کیا جا رہا ہے۔اسلامی ادب میں ان کی ایک نادر اور منفر د مثال ہے۔اول اس اعتبار سے کہ کسی شاعر اور ادیب نے ان موضوعات کو اپنے کلام کے لیے اختیار نہیں کیا۔عربی۔فارسی اور اردو کے سرمایۂ ادب کی چھان بین کر کے دیکھ لیں کہ ان موضوعات پر کسی کے دل میں وہ تڑپ اور محبت پیدا نہیں ہوئی جو ایک جذبے کو شعر کی صورت دینے کا باعث ہوتی ہے۔ایسا ہونا ضروری بھی تھا کیونکہ کسی ادیب کو دین اسلام کے احیاء کی خدمت کا منصب عطا نہیں ہوا تھا۔اور نہ ہی ایسا قرب ولقاء باری تعالیٰ تھا کہ وہ ان مضامین کو اپنے دل و جان پر وارد کر کے حکم خداوندی کی بجا آوری میں نغمہ سرائی کرتا۔