ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 47 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 47

47 ادب المسيح مشاہدہ کر لیں کہ قرآن کریم کا وہ موضوع جس پر اس کی تعلیم کی اساس ہے وہ محبت الہی ہی ہے۔اب ایک ارشاد خداوندی ابلاغ رسالت کے موضوع پر بھی سن لیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ ھود میں فرماتا ہے: كتب أحْكِمَتْ الله ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا الله إِنَّنِي لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (هود: 3,2) وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ۔۔۔الى الآخر (هود: 4) حضرت اقدس ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے الا تعبدوا الا الله۔۔۔خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔چونکہ یہ تعبدِ تام کا عظیم الشان کام انسان بدوں کسی اسوہ حسنہ اور نمونہ کاملہ اور کسی قوت قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کر سکتا تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اُسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہو کر آیا ہوں“ (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) (ثُمَّ تُوْبُوْا إِلَيْهِ ) کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔یعنی خدا کی طرف رجوع کرو“ (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یہ سب ارشاد قرآنی ابلاغ رسالت کے مضمون میں ہے کہ اس موضوع کے مطابق ابلاغ رسالت ہو۔اس مقام تک تو موضوعات کلام حضرت اقدس کے تین بنیادی موضوعات کا ذکر ہوا ہے تین ایسے موضوعات جو قرآن کریم کے اتباع میں اور خدا کے حکم کی بجا آوری میں آپ نے اختیار فرمائے ہیں اور دراصل انہی موضوعات کے تحت دیگر تمام موضوعات حضرت اقدس آتے ہیں اوّل خدائے واحد کی محبت۔دوم۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور محبت۔سوئم۔آنحضرت کے مثیل اور نائب ہونے کے اعتبار سے بشیر ونذیر بن کر ابلاغ رسالت۔چہارم درجہ پر مناجات اور دعا جیسا کہ وَاَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا إِلَيْهِ کا فرمان ہے۔ان تمام۔مضامین کو آپ نے ان دو اشعار میں بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔جیسے فرماتے ہیں۔