ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 46 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 46

ب المسيح 46 بکه من در عشق او هستم نہاں من ہمانم۔من ہمانم۔من ہماں - - از بسکہ میں اُس کے عشق میں غائب ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں اس مقام تک تو یہ بات ہوئی ہے کہ حضرت اقدس کے کلام کی تخلیق کاملۃ وکلیۂ الہیات کے مضامین پر مشتمل ہوتی ہے اور ان مضامین کا مرکزی نقطہ اور محور محبت الہی اور عشق رسول اکرم ہے۔یعنی آنحضرت کے نائب کے طور پر ابلاغ کرنا۔مگر جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا تھا کہ حضرت اقدس کے موضوعات شعری تمام تر قرآن کریم کے موضوعات ہیں۔اس لیے ہم مختصراً دو بنیادی فرمودات قرآن پیش کرتے ہیں۔اول تو وہ فرمانِ خداوندی ہے جو ہمارے آقا اور مطاع صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا کہ: قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (انعام : 163،164) حضرت اقدس ان آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اُن کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری پرستش میری جد و جہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لیے ہے۔اور اس راہ میں ہے۔وہی خدا جو تمام عالموں کا ربّ ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے“ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یہ آیت بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قد ر خدا میں گم اور محو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض اللہ کے لیے ہو گئی تھی۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ایک اور مقام پر آیت قرآنی کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الله۔۔۔إلى الآخر (محمد: 20) کلمہ جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں۔اس کے کیا معنی ہیں؟ کلمہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کرتا ہے کہ میرا معبود اور مقصود خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں اللہ “ کا لفظ محبوب اور اصل مقصود اور معبود کے لیے آتا ہے۔یہ کلمہ قرآن شریف کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہے“ (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)