ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 39 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 39

39 ادب المسيح حضرت اقدس اس فرمانِ خداوندی کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں (یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو جاتی ہے اس لیے کہ ان کی کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ) وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے رہتے ہیں۔یعنی یہ کہ قرآن کریم کے ادب پاروں کا دل و دماغ پر اثر اسی انسان کے ہوسکتا ہے جس کا دل خشیت الہی سے معمور ہو۔اور اس کے دل میں محبت الہی کا چراغ روشن ہو۔حضرت اقدس نے اس حقیقت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے: فرماتے ہیں: راز قرآن را کجا فهمید کے بہر نورے، نوری باید بسے! کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لیے بہت سا نور باطن ہونا چاہیے نور را داند کسے کو نور شد و از حجاب سرکشی با دور شد نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو۔اور سرکشی کے حجابوں سے دور ہو گیا ہو ایں نہ من قرآن ہمیں فرموده است اندر و شرط تطهر بوده است یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے پاک ہونے کی شرط ہے یہ بات تو واضح ہے کہ جس طور سے قرآن کریم خدا تعالیٰ کی محبت اور عرفان کی راہ دکھاتا ہے۔اُسی طور پر اس کے مرسلین بھی دکھاتے ہیں۔ان کے مشاہدات اور جذبات ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت اور اس کی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔اور پھر نتیجہ ان کے کلام کی تمام ترجیحات محبوب حقیقی کے حسن و جمال کا بیان واظہار ہوتی ہیں۔خاکسار یہ سمجھتا ہے کہ یہی حقیقت اور چیز ہے جس کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کے کلام کی منفر دنوعیت اور ممتاز کیفیت کو بہت محبت سے آپ کو الہام کیا ہے۔66 در کلام تو چیزی است که شعراء را در آن دخلے نیست - گلامٌ أُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَّبِّ كَرِيمٍ “ ( ترجمہ ) تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نہیں ہے۔تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا تذکرہ ، ایڈیشن چہارم، صفحه ۵۹۵۔مطبوعہ 2004ء) گیا ہے۔