ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 38
ب المسيح اور 38 تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی۔تو زیاں تھا نہ سود تھا محبوب حقیقی کے دیدار کی حسرت۔عرفان کامل کی تلاش میں ناکامی۔اور شک و گمان کی کیفیت میں طعنہ ہائے نایافت زمینی ادب کے غالب عناصر تخلیق ہیں۔اس بنا پر وہ ادب یقین اور قطعیت کا حامل نہیں ہوتا اور نتیجہ ایک بے اثر کلام ہو جاتا ہے۔ادب پاروں کا مؤثر ہونا ادبی اقدار میں ایک اہم ترین قدر ہے۔ایک ایسی قدر جو دیگر تمام اقدار کا مقصود و مطلوب ہوتی ہے۔اگر یہ مفقود ہو تو دیگر تمام اقدار ادب کا قیام ایک کار لا حاصل ہوتا ہے۔ادب عالیہ میں جس قدر کو اسلوب اور ابلاغ کہتے ہیں وہ اپنے آخری تجزیہ میں مؤثر کلام ہی کا نام ہے۔اس مضمون میں غالب کا ایک سادہ اور سلیس مگر عظیم الشان شعر ہے۔دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے یعنی یہ کہ کلام کی لذت و شان تو اس وقت ثابت ہوتی ہے جبکہ وہ سامع کے جذبات کو زندہ اور مشتعل کرے۔ادبی شاہ پاروں کا ابلاغ کامل اسی طور سے ہوتا ہے کہ کہنے والے اور سننے والے۔شاعر اور سامع کے رجمانات قلبی اور ذہنی تر جیہات میں باہم یک رنگی اور اتحاد پیدا ہو جائے۔حضرت اقدس نے بھی اس مضمون کو بہت درد سے بیان کیا ہے۔اگر از روضه جان و دل من پرده بر دارند به بینی اندراں آں دلبر پاکیزه طلعت را ترجمہ۔اگر میرے جان و دل کے چمن سے پردہ اٹھایا جائے تو تو اس میں اُس پاکیز ہ طلعت معشوق کا چہرہ دیکھ لے گا فروغ نور عشق أو ز بام و قصر ما روشن مگر ببیند کسے آن را که میدارد بصیرت را اُس کے نور عشق کی تجلی سے ہمارے بام و قصر روشن ہیں۔لیکن اُسے وہی دیکھتا ہے جو بصیرت رکھتا ہو اس مضمون میں قرآن کریم کے لا تعداد فرمودات ہیں یعنی یہ کہ ہدایت اُسی کو ملتی ہے جس دل میں کوئی کرن محبت الہی اور خشیت الہی کی روشن ہو۔قرآن کریم میں اول قدم پر ہی فرما دیا گیا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔یعنی صرف صاحب تقوای انسان کو یہ قرآنی ادب پارے تلاش محبوب حقیقی میں مدد دے سکتے ہیں۔دوسرے مقام پر قرآن کریم کی تاثیر کے بیان میں فرمایا: تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ (الزمر:24)