ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 37
37 ادب المسيح حقیقت تو یہ ہے کہ ادبی اصطلاح میں جن ادبی اقدار کو ہم ” محرک شعر کہتے ہیں وہ ادب مرسلین میں تصرفات الہیہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔اور یہی وہ ہمہ گیر تصرفات باری تعالیٰ ہیں جو مرسلین کے کلام کو محبوب حقیقی کے پر تو جمال کے حصار میں محصور رکھتا ہے اور اُسی کے حسن کی تجلیات کے بیان میں اور اُسی کے وصال کی تڑپ اور شوق میں اُن کی نغمہ سرائی ہوتی ہے۔اور پھر ایسے ہوتا ہے کہ محبوب حقیقی بھی اُن کی زبان پر ہر اعتبار سے پاکیزہ کلام جاری کرتا ہے اور اُن مضامین کی تعلیم دیتا ہے جن سے باری تعالیٰ کا حسن و جمال ظاہر ہو اور اُس کی محبت اور وصال کی تمنا دل میں زندہ ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلى صِرَاطِ الْحَمِيدِ (الحج : 25) اور وہ ہدایت دیے جاتے ہیں پاکیزہ کلام کی طرف اور وہ ہدایت دیے جاتے ہیں صاحب حمد و ثنا خدا کے راستے کی طرف۔زمینی محرک ادب تو اپنی کیفیت بدلتا رہتا ہے کبھی کوئی ایک جذبے کے تحت بیان کر رہا ہوتا ہے اور کبھی عین اُس جذبے کے خلاف بیان کرتا ہے۔کبھی اُس میں جوش اور یقین ہوتا ہے اور کبھی وہ بے یقینی اور شکوک کا شکار ہو جاتا ہے چنانچہ وہ احساس اور مشاہدہ جو محرک ادب بنتا ہے وہ یکساں نتائج پیدا نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ دنیائے ادب میں ایک سے موضوعات پر بے شمار اظہار خیال ہوتا ہے اور اُس میں بے شمار اختلاف معنوی بھی ہوتا ہے اور اختلاف اسلوب بیان بھی۔یہ جو کہا گیا ہے کہ زمینی ادب بے یقینی اور شکوک کا شکار ہوتا ہے ادب میں ایک ایسا عام مشاہدہ ہے کہ ایک طفل مکتب بھی اس بیان کی تصدیق کر سکتا ہے۔تاہم اساتذہ شعر کے چند نمونے پیش کرنے سے یہ حقیقت مزید واضح ہو سکتی ہے۔حافظ شیرازی کہتے ہیں۔کس نه دانست که منزل گئے مقصود کجاست این قدر ہست کہ بانگے جرس می آید کوئی نہیں جانتا کہ منزل مقصود کیا ہے ،مگر اتنا علم ہے کہ قافلے کی روانگی کا جرس بج رہا ہے رومی کہتے ہیں۔گفتند یافت می نشود جسته ایم ما گفت آں کہ یافت می نشود آنم آرزوست کہا گیا کہ بہت تلاش کے باوجود مقصود نہیں ملا۔اس نے کہا کہ جو نہیں ملا اُسی کی تو آرزو ہے اسی مضمون میں غالب کہتے ہیں۔ہاں اہل طلب کون سنے طعنہ نایافت دیکھا کہ وہ ملتا نہیں۔اپنے ہی کو کھو آئے