ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 27 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 27

27 ادب المسيح وہ محبوب حقیقی کے عشق کا جیتا جاگتا نشان بن کر آتے ہیں اس لیے ان کے ادب کی اساس زمینی محبتوں اور لذتوں کو ترک کرنا اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے وصال کی لذت سے انسان کو آشنا کرنا ہوتی ہے۔آپ کی بعثت اور کلام کا یہ مقصد فارسی اشعار میں کس قدر خوبی و جمال سے بیان ہوا ہے فرماتے ہیں بجز اسیری عشق رخش رہائی نیست بدرد او همه امراض را دوا باشد اس کے چہرہ کے عشق کی قید کے سوا کوئی آزادی نہیں اور اُس کا درد ہی سب بیماریوں کا علاج ہے به بینی اش اگرت چشم خویش وا باشد پرورد مرا ہر دم عنایت و کرمش اُس کا فضل و کرم ہر وقت میری پرورش کرتا ہے اگر تیری آنکھیں کھلی ہیں تو تجھے یہ بات نظر آ جائے گی بیامدم که ره صدق را درخشانم بدلستاں برم آن را که پارسا باشد میں اس لیے آیا ہوں کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور دلبر کے پاس اُسے لے چلوں جو نیک و پارسا ہے۔اس مقصد کے بیان کو اردو میں بھی دیکھ لیں۔مجھے اس یار سے پیوندِ جاں ہے وہی جنت وہی دارالاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي اور عربی میں بھی اسی مقصد ادب کا بیان سُن لیں۔فرماتے ہیں: أَنْتَ الْمُرَادُ وَ اَنْتَ مَطْلَبُ مُهْجَتِى وَعَلَيْكَ كُلُّ تَوَكَّلِي وَ رَجَائِي تو ہی مراد ہے اور تو ہی میری روح کا مطلوب ہے اور تجھ پر ہی میرا سارا بھروسہ اور امید ہے۔أَعْطَيْتَنِي كَأْسَ الْمَحَبَّةِ رَيْقَهَا فَشَرِبُتُ رَوْحَاءٌ عَلَى رَوْحَاءِ تو نے مجھے محبت کی بہترین کے کا ساغر عطا کیا ہے تو میں نے جام پر جام پیا۔إِنِّي أَمُوتُ وَلَا يَمُوتُ مَحَبَّتِى يُدْرَى بَذِكْرِكَ فِي التُّرَابِ نِدَائِي میں تو مر جاؤں گا لیکن میری محبت نہیں مرے گی۔(قبر کی مٹی میں بھی تیرے ذکر کے ساتھ ہی میری آواز پہچانی جائے گی۔اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے تصرف خاص سے آسمانی ادیبوں کی تخلیق فرماتا ہے اور اپنی نگرانی میں ان کے قلبی اور نظری رجحانات کی تادیب اور تعدیل کرتا ہے اس لیے محرکات ادب میں ان کے مشاہدات اور جذبات اور ان کی ادبی استعداد اور اکتساب ہنر خالصہ محبوب حقیقی کی منشاء اور حکم کے تحت اور اس کی