ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 433 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 433

433 ادب المسيح حضرت اقدس کا روحانی منصب اور مقام خیال تھا کہ حضرت اقدس کے ادب عالیہ کی خدمت کو اس طور سے ترتیب دیا جائے کہ اس کتاب کا آخری موضوع مناجات اور دعا ہو مگر دوران خدمت گزاری یہ خلش دل میں رہی کہ ایک عنوان یہ بھی ہونا چاہیئے کہ آپ حضرت نے اپنے روحانی منصب کو کیسے بیان کیا ہے۔چنانچہ اس محبت کے جذبے سے مجبور ہو کر ہم نے یہ عنوان باندھا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت اقدس کا تمام کلام اور اس کے تمام موضوعات چودھویں کے چاند کی طرح سے آپ کے روحانی منصب ہی کی ضوفشانی کر رہے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں آپ کے قرب الہی ہی کو پیش کر رہے ہیں مگر یہ حقیقت ہر انسان کے شعور کی حدود تک ہی محدود ہوتی ہے یعنی یہ کہ جس قدر اس کے سمجھ آئی اُسی قدر اس کو قبول کر لیا اس لیئے اگر آپ حضرت کے اپنے کلام میں آپ کے روحانی منصب کو بیان کیا جائے تو وہ آپ کے روحانی منصب اور قرب الہی کی عظمت کی حقیقی ترجمانی ہوگی۔مگر آپ کے بیان سے بڑھ کر جو کلام آپ کے روحانی منصب اور مقام کی ترجمانی کرنے کا حقدار ہے وہ بارگاہ الہی کا یہ فرمان ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأَمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَلَتِهِ وَيُزَكِّيهِمُ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة: 4،3) حضرت اقدس ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خدا وہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوسِ انسانی علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہوگئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے یعنی خدا اور اس کی صراط مستقیم سے بہت دُور جا پڑے تھے تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول اتمی بھیجا اور اس رسول نے اُن کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے اُن کو ملو کیا یعنی نشانوں اور معجزات سے مرتبہ یقین کامل تک پہنچایا اور خداشناسی کے ٹور سے ان کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دُور ہونگے تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ اُن کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ اُن کا صدق اور یقین بھی صحابہؓ کے