ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 418
المسيح 418 بیان اللہ تعالیٰ نے ایسے قائم فرمایا ہے کہ اوّل خدا تعالیٰ کی عظمت و شان کا بیان ہو اور پھر انسان کی عجز و کمزوری کا اظہار ہو اور آخر پر التجا اور مطلوب کو پیش کیا جائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مناجات کا یہی اسلوب بیان ہے۔اور آپ کی اسی ادبی شان کو واضح اور روشن کرنے کے لیے ہی ہم نے گذشتہ کی معروضات کو پیش کیا ہے۔اول ہم اُردو زبان میں آپ حضرت کی شاہکار مناجات اور دعا کو پیش کرتے ہیں مشاہدہ کریں کہ کسقدرالہی اسلوب مناجات کی پاسداری ہے۔اول باری تعالیٰ کی عظمت کا بیان ہے اور پھر اپنی عاجزی اور انکساری ہے اور آخر پر یہ التجا اور اظہار مطلب ہے۔بہت ہی عظیم الشان اور بے مثال کلام ہے۔صرف اپنی سلبی اولاد کے لیئے ہی نہیں بلکہ اپنی روحانی اولاد کے لیئے بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی جماعت نے اس کو حرز جاں بنا رکھا ہے اول حمد و ثناء باری تعالیٰ میں فرماتے ہیں۔حمدوثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اُسکے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں مرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت لرزاں ہیں اہلِ قُربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اسکی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اسکی صنعت اس سے کرو محبت غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اسکی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي دوسرے قدم پر اپنی عاجزی اور عبودیت کو بیان کرتے ہیں۔فرمایا: آشکارا سب کا وہی سہارا رحمت ہے ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا