ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 417 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 417

417 ادب المسيح اس وقت مناجات کے ادبی شاہکار پیش کر رہے ہیں اس لیے سورۃ الفاتحہ کی دعا کی ادبی ترتیب کا قدرے وضاحت سے بیان کرنا ضروری ہے۔ادب پاروں میں جہاں ادبی مواد کی اہمیت ہوتی ہے وہاں پر اس اسلوب بیان کی بھی اسی قدرقدرو منزلت ہوتی ہے۔ادب ان دو عناصر کے حسین اختلاط اور ارتباط سے تخلیق پاتا ہے اگر مضمون یا مواد کواد بی حسن و جمال سے آراستہ نہ کیا جائے تو وہ حسنِ بیان کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں مضمون کی عظمت وشان کو بیان کیا ہے وہاں پر مناجات اور دعا کے اسلوب کا التزام بھی کیا ہے۔مناجات کے اسلوب بیان کو گذشتہ میں پیش کردہ قدسی حدیث بھی واضح کر رہی ہے اور یہاں پر حضرت مسیح موعود کا یہ فرمان اس ترتیب بیان کی اہمیت کو ظاہر کر رہا ہے۔فرماتے ہیں: وَمِنَ الْمُمْكِن اَنْ يَكُونَ تَسْمِيَةُ هَذِهِ السُّورَةِ بِأَمِّ الْكِتَبِ نَظَرًا إِلَى غَايَةِ التَّعْلِيمِ فِي هذَا الْبَابِ۔فَإِنَّ سُلُوكَ السَّالِكِينَ لَا يَتِمُّ إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَسْتَوْلِيَ عَلَى قُلُوبِهِمْ عِزَّةُ الرُّبُوبِيَّةِ وَذِلَّةُ الْعُبُودِيَّةِ وَلَنْ تَجِدَ مُرْشِدًا فِى هَذَا الْأَمْرِ كَهْذِهِ السُّورَةِ مِنَ الْحَضْرَةِ الأحدِيَّةِ الاتَرى كَيْفَ أَظْهَرَ عِزَّةَ اللهِ وَ عَظُمَتَهُ بِقَوْلِهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ إِلَى مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔ثُمَّ اَظْهَرَ ذِلَّةَ الْعَبْدِ وَ هَوَانَهُ وَ ضُعْفَهُ بِقَوْلِهِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔اس سورۃ کا چوتھا نام ام الکتاب رکھنے کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ امور روحانیہ کے بارے میں اس میں کامل تعلیم موجود ہے، کیونکہ سالکوں کا سلوک اُس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ ان کے دلوں پر ربوبیت کی عزت اور عبودیت کی ذلت غالب نہ آجائے۔اس امر میں خدائے واحد و یگانہ کی طرف سے نازل شدہ سورت فاتحہ جیسا رہنما اور کہیں نہیں پاؤ گے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ اُس نے کس طرح الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ سے لے کر مَالِكِ يَوْمِ الدین تک کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی عزت اور عظمت کو ظاہر فرمایا ہے۔پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہ کر بندہ کے بجز اور کمزوری کو ظاہر کیا ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس سورۃ الفاتحہ) یہ فرمان دراصل ادب میں مناجات کی صنف کے اسلوب اور ترتیب کو بیان کر رہا ہے یعنی یہ کہ مناجات کا دستور