ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 388 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 388

ب المسيح 388 حملہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ہمارے مضمون پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے اعتبار سے قرآن کریم کا ذیل کا فرمان اور اس کی تفسیر حضرت اقدس بہت موزوں ہے۔فرمایا: لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ أَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِ عَا مِنْ نَخَشْيَةِ اللهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَشْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الحشر: 22) حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ایک تو اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اُتر تا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بیوقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور دوسرے اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اوّل تکبر کوتوڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اُونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہیئے کہ تمام تکبیر اور بڑائی کے خیالات کو دُور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر مُتَصَدِّعًا ہوجاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جُدا ہو جاتی ہے ایسا ہی اسکے تمام پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الہی نارضامندی تھے وہ سب ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کی رہ جائیں۔اور یہ فرمان بھی تو ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجُهِلُونَ قَالُوا سَلمًا حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: (الفرقان: 64)