ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 389
389 ادب المسيح وَ عِبادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا۔۔۔۔الخ هَون یعنی کسی دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلحکاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا۔خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں۔(تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور فرمایا: وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّ وَاكِرَامًا (الفرقان: 73) حضرت اقدس اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان کسی کا مقابلہ کرتا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ کہنا ہی پڑتا ہے جیسے مقدمات میں ہوتا ہے۔اس لئے آرام اسی میں ہے کہ تم ایسے لوگوں کا مقابلہ ہی نہ کرو۔سد باب کا طریق رکھو اور کسی سے جھگڑا مت کرو۔زبان بند رکھو۔گالیاں دینے والے کے پاس سے چپکے سے گزر جاؤ گویا سنا ہی نہیں اور ان لوگوں کی راہ اختیار کرو جن کے لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُ وا كِرَامًا۔اگر یہ باتیں اختیار کر لو گے تو یقیناً یقیناً اللہ تعالیٰ کے سچے مخلص بن جاؤ گے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) یہی وہ اخلاق واطوار علوی ہیں جن کی نشاندہی میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو عظیم الشان الفاظ میں یاد کیا۔فرمایا: إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:5) حضرت اقدس اس فرمان خداوندی کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اللہ جلّ شانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ یعنی تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے سو اس تشریح کے مطابق اس کے معنے ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت ، عدل، رحم ، احسان ،صدق ، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔غرض جس قدر انسان کے دل میں قوتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب ، حیا، دیانت، مروت، غیرت، استقامت، عفت، ذہانت، اعتدال، مواسات یعنی ہمدردی۔ایسا ہی شجاعت، سخاوت ، عفو، صبر، احسان، صدق ، و فاوغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا۔معاشرتی اخلاق کے مضمون میں قرآن کریم کی بے شمار ہدایات ہیں۔ہم نے ان میں سے چند ایک کا انتخاب