ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 348
ب المسيح 348 بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْآعَادِي ہم نے ” محبت ذاتیہ“ کا لفظ حضرت اقدس ہی سے اخذ کیا ہے۔آپ حضرت وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذریات : 57) کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔میں نے پرستش کے لئے ہی جن وانس کو پیدا کیا ہے۔ہاں یہ پرستش اور حضرت عزت کے سامنے دائمی حضور کے ساتھ کھڑا ہونا بجز محبت ذاتیہ کے ممکن نہیں اور محبت سے مراد یکطرفہ محبت نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی دونوں محبتیں مراد ہیں تابجلی کی آگ کی طرح جو مرنے والے انسان پر گرتی ہے اور جو اس وقت اس انسان کے اندر سے نکلتی ہے بشریت کی کمزوریوں کو جلا دیں اور دونوں مل کر تمام روحانی وجود پر قبضہ کر لیں۔محبت ذاتیہ اور عشق حقیقی کا ایک بیان اور سُن لیں۔فرماتے ہیں: کسی نے یہ پوچھی تھی عاشق سے بات کہا نیند کی وہ (دیکھو تفسیر زیر آیت) وہ نسخہ بتا جس سے جاگے تو رات ہے دوا سوز و ورد کہاں نیند جب غم کرے چہرہ زرد آنکھیں نہیں جو کہ گریاں نہیں وہ خود دل نہیں جو کہ پریاں نہیں تو انکار سے وقت کھوتا ہے کیا تجھے کیا خبر عشق ہوتا ہے کیا؟ مجھے پوچھو اور میرے دل سے یہ راز مگر کون پوچھے بجز عشق باز