ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 16
ب المسيح 16 یہی وجہ ہے کہ تمام مہذب زبانوں کے اہل نظر اور نقادوں نے لفظ ”ادب“ کی تعریف میں ایک ہی ایسی قدر بیان کی ہے جو ادبی دنیا میں مقبول عام اور مسلم ہے۔یعنی یہ کہ خیال اور مشاہدات کو احساسات اور جذبات کو حسین الفاظ میں بیان کرنا ”ادب“ ہے۔چنانچہ بیان نثر میں ہو یا نظم میں ”ادب“ کے مقام تک پہنچنے کے لیے اس میں لفظی اور معنوی حسن و جمال کا ہونا شرط اول ہے اور شرط آخر بھی۔ادب میں حسن، لفظ اور معانی کے ارتباط اور تناسب سے پیدا ہوتا ہے۔یہ ربط اور تناسب ایک شعوری لذت بھی پیدا کرتا ہے اور اپنے آہنگ کے ساتھ تختہ گل کی طرح سے رنگ و روپ بھی بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ علوم اد ببیہ کا موضوع محاسن کلام کی تلاش اور تعیین ہے۔علم معانی اور علم بیان علم صنائع و بدائع اسی محور کے گردگھومتے ہیں اور علامات حسن بیان کی نشاندہی میں مد اور معاون ہوتے ہیں۔آخر الامر یہ ہے کہ لفظ و معنی میں حسن تخلیق کرنا ہی وہ قدر ہے جو کہ ”ادب“ کی تعریف کو متعین کرتی ہے۔اور اُس کو دیگر انسانی علوم اور دانش وری کے بیان سے ممتاز کرتی ہے۔شاید غالب نے لفظ و معانی کے انتشار رنگ و بو سے پریشان ہو کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ شعر میں یہ انتشار قبول ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ ہر لفظ میں بہار کا جلوہ گر ہونا لازمی ہو۔( یعنی حسن کا ) کہتا ہے: ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہئے ”ادب“ کی تعریف کا یہ ایک ایسا بنیادی عنصر ہے جس کو تمام مہذب زبانوں کے ادیب اور نقاد قبول کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس ارتباط اور مناسبت کو بہت پر حکمت انداز میں بیان فرمایا ہے اور اپنی تمام مخلوق کے حسن کو تناسب سے پیدا کیا ہے۔فرماتا ہے : الَّذِي خَلَقَكَ فَسَونَكَ فَعَدَ لَكَ (الانفطار : 8) یعنی اول قدم پر تخلیق ہے اور پھر ترتیب اور تعدیل ہے۔ادب میں بھی تخلیق کے یہ تین ہی عناصر اور مراحل ہیں۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت اقدس فرماتے ہیں: حسن تناسب اعضاء کا نام ہے۔جب تک یہ نہ ہو ملاحت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت فَسَونك فَعَدَ لَكَ فرمائی ہے۔فَعَدَلَكَ کے معنے تناسب کے ہیں کہ نسبتی اعتدال ہر جگہ ملحوظ رہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 201۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت اقدس نے نسبتی اعتدال ہر جگہ ملحوظ رہے فرما کر ادبیات کو بھی اس اصل الاصول کے تحت کر دیا ہے۔