ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 313
313 ادب المسيح لیے یہ کتاب ہر ایک شک وشبہ سے خالی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا علم انسانوں کی تکمیل کے لیے اپنے اندر ایک کامل طاقت رکھتا ہے اس لیے یہ کتاب متقین کے لیے ایک کامل ہدایت ہے اور ان کو اُس مقام تک پہنچاتی ہے جو انسانی فطرت کی ترقیات کے لیے آخری مقام ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) صفت ہدایت کے تحت دوسرا فرمان یہ ہے۔اِنَّ هُذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا حضرت اقدس اس صفت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: (بنی اسرائیل : 10) یہ قرآن اُس سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے جس میں ذرا کچھی نہیں اور انسانی سرشت سے بالکل مطابقت رکھتی ہے اور در حقیقت قرآن کی خوبیوں میں سے یہ ایک بڑی خوبی ہے کہ وہ ایک کامل دائرہ کی طرح بنی آدم کی تمام قومی پر محیط ہو رہا ہے۔اور آیت موصوفہ میں سیدھی راہ سے وہی راہ مراد ہے کہ جو راہ انسان کی فطرت سے نہایت نزدیک ہے یعنی جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اُن تمام کمالات کی راہ اس کو دکھلا دینا اور وہ راہیں اس کے لئے میتر اور آسان کر دینا جن کے حصول کے لئے اُس کی فطرت میں استعدا درکھی گئی ہے اور لفظ أَقْوَمُ سے آیت يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ میں یہی راستی مراد ہے۔تاثیرات قرآن ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تاثیر کے اعتبار سے بہت مقامات میں ذکر فرمایا ہے۔ہم اختصار کے طور پر دو بہت اہم فرمودات پیش کرتے ہیں۔اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ حضرت اقدس تفسیر میں فرماتے ہیں: (الزمر:24) يَعْنِي ذَالِكَ الْكِتَبُ كِتَابٌ مُّتَشَابَة يَشْبَهُ بَعْضُهُ بَعْضًا لَيْسَ فِيهِ تَنَاقُضٌ وَّلَا