ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 291
291 ادب المسيح بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں یقیں ہے کہ نانک تھا ملہم ضرور نہ کر وید کا پاس اے پر غرور! دیا اس کو کرتار نے وہ گیان کہ ویدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشاں اس نظم میں مزید فرماتے ہیں: تو ڈرتا ہے لوگوں سے اے بے ہنر خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر؟ یہ تحریر چولہ کی ہے اک زباں! سنو وہ زباں سے کرے کیا بیاں که دمین خُدا دین اسلام ہے جو ہو منکر اُس کا بد انجام ہے دین اسلام کے غم میں فرماتے ہیں: اے میرے یار یگانہ! اے میری جاں کی پناہ! کر وہ دن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن پھر بہار دیں کو دکھلا اے میرے پیارے قدیر! کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن دن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سُورج دکھا اس دیں کے چپکانے کے دن دل گھٹا جاتا ہے ہر دم جاں بھی ہے زیروز بر چہرہ اک نظر فرما که جلد آئیں تیرے آنے کے دن وکھلا کر مجھے کر دیئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیں گے ترسانے کے دن کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے کیا مرے دلدار تو آئے گا مرجانے کے دن ڈوبنے کو ہے یہ ہے یہ کشتی آمرے اے ناخُدا آگئے اس باغ پر اے یار مُرجھانے کے دن تیرے ہاتھوں سے میرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ دیں میت ہے اور یہ دن ہیں دفنانے کے دن