ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 194 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 194

194 ب المسيح مَا جِتْنَا فِي غَيْرِ وَقْتِ ضَرُورَةٍ قَدْ جِئْتَ مِثْلَ الْمُؤْنِ فِي الرَّمْضَاءِ تو ہمارے پاس بے وقت اور بے ضرورت نہیں آیا تو ایسے آیا ہے جیسے شدید گرما میں بارش آجائے۔إِنِّي رَأَيْتُ الْوَجْهَ وَجُهَ مُحَمَّدٍ وَجُهُ كَبَدْرِ اللَّيْلَةِ الْبَلْمَاءِ میں نے وہ چہرہ دیکھا ہے جو محمد کا چہرہ ہے۔ایسا چہرہ جیسا چودھویں رات کا چاند ہو۔شَمْسُ الْهُدَى طَلَعَتْ لَنَا مِنْ مَكَّةَ عَيْنُ النَّدَا نَبَعَتْ لَنَا بِحِرَاءِ ہدایت کا آفتاب ہمارے لئے مکہ سے طلوع ہوا۔بخششوں کا چشمہ ہمارے لئے حراء سے پھوٹ پڑا۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں یعنی صحابہ کی تعریف میں فرماتے ہیں: وَاهَا لَأَصْحَابِ النَّبِيِّ وَ جُنْدِهِ حَفَدُوا إِلَيْهِ بِشِدَّةٍ وَرَخَاءِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور لشکروں پر آفرین ہو جو دکھ میں بھی اور سکھ میں بھی آپکی خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔عُمِسُوا بَبَرَكَاتِ النَّبِيِّ وَ فَيُضِهِ فِي النُّورِ بَعْدَ تَمَرُّقِ الْأَهْوَاءِ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اور فیض سے خواہشات نفسانی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد نور میں ڈوب گئے۔اور آخر پر آداب حمد وثناء کی پاسداری میں اپنے خدا کی جناب میں عرضداشت پیش کرتے ہیں۔إِنَّ الْمُقَرَّبَ لَا يُضَاعُ بِفِتْنَةٍ وَالْأَجْرَ يُكْتَبُ عِنْدَ كُلَّ بَلَاءِ مقرب آزمائش سے ضائع نہیں کیا جاتا اور ہر بلا کے وقت اس کا اجر لکھا جاتا ہے۔يَا رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا بِكَرَامَةٍ يَا مَنْ يَّرَى قَلْبِي وَ لُبَّ لِحَائِي اے ہمارے رب ! تُو ہمارے درمیان باعزت فیصلہ فرما۔اے وہ ذات جو میرے دل کو میرے ظاہر کی اندرونی حقیقت کو دیکھ رہی ہے۔يَا مَنْ أَرَى أَبْوَابَهُ مَفْتُوحَةً لِلسَّائِلِينَ فَلَا تَرُدَّ دُعَائِي اے وہ ذات! جس کے دروازے میں سائلوں کے لئے کھلے دیکھتا ہوں۔میری دعا کو رد نہ فرما۔آپ کے کلام سے محبت رکھنے والوں کے لیے آپ کے ادب کا منفر د مکتب ادب نام کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ہم نے چند مثالیں پیش کر کے یہ حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ کے کلام کی تر جیہات قلبی اور مقاصد تخلیق دنیوی ادب سے مختلف ہی نہیں بلکہ برعکس ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو آپ کے ادب کو ایک منفرد اور