ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 193
193 ادب المسيح أنْظُرُ إِليَّ بِرَحْمَةٍ وَعَطُوفَةٍ يا مَلْجَنِي يَا كَاشِفَ الغَمَّاءِ مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر، اے میری پناہ! اے حزن و کرب کو دور فرمانے والے! أنْتَ الْمَلَاذُ وَأَنْتَ كَهُفُ نُفُوسِنَا في هذِهِ الدُّنْيَا وَ بَعْدَ فَنَاءِ تو ہی جائے پناہ ہے اور تو ہی ہماری جانوں کی پناہگاہ ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی۔اور کیونکہ آپ کی حمد وثناء در حقیقت محبت الہی کا اظہار ہے اس لیے کلام کا رخ اس محور کی طرف موڑ لیتے ہیں۔فرماتے ہیں۔غَلَبَتْ عَلَى قَلْبِي مَحَبَّةُ وَجُهِهِ حَتَّى رَمَيْتُ النَّفْسَ بِالْإِلْغَاءِ میرے دل پر اس کے چہرے کی محبت غالب آگئی یہاں تک کہ میں نے اپنے نفس کو اور اس کی خواہشات کو باطل اور کالعدم بنا کر پھینک دیا۔وَارَى الوَدَادَ أَنَارَ بَاطِنَ بَاطِنِي وَأَرَى التَّعَشُقَ لَاحَ فِي سِيمَائِي میں دیکھتا ہوں کہ محبت نے میرے باطن کے باطن کومنور کر دیا ہےاور میں دیکھتا ہوں کہ عشق میرے چہرے پر ظاہر ہو گیا ہے۔مَا بَقِيَ فِي قَلْبِي سِوَاهُ تَصَوُّرٌ غَمَرَتْ آيَادِى اللَّهِ وَجْهَ رَجَائِي میرے دل میں اس کے سوا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔خدا تعالیٰ کے احسانات نے میری خواہشوں کے منہ کوڈھانپ لیا ہے۔هَوْجَاءُ الْفَتِهِ أَثَارَتْ حُرَّتِي فَفَدَا جَنَانِى صَوْلَةَ الْهَوْجَاءِ اس کی الفت کی تیز ہواؤں نے میری خاک اڑادی پس میرا دل ان ہواؤں کی شہرت پر قربان ہو گیا۔محبوب حقیقی کی محبت کے بیان کے ساتھ ہی اس محبوب کی یاد آجاتی ہے جس کی برکت اور دم قدم سے انسان کو محبت الہی نصیب ہوئی ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔فرماتے ہیں: يَا بَدْرَ نُورِ اللَّهِ وَ العِرفان تَهْوِى إِلَيْكَ قُلُوبُ أَهْلِ صَفَاءِ اے اللہ تعالیٰ کے نور و عرفان کے بدر کامل! اہل صفا کے دل تیری طرف ٹوٹے پڑتے ہیں۔يَاشَمُسَنَا يَا مَبْدَءَ الْأَنْوَارِ نَوَّرُتَ وَجُهَ الْمُدْنَ وَالبَيْدَاءِ اے ہمارے آفتاب اور اے منبع الانوار ! تو نے شہروں اور ویرانوں کے چہرے منور کر دیے۔إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَدِّلِ شَانًا يَّفُوقُ شُيُونَ وَجُهِ ذُكَاءِ میں تیرے دسکتے ہوئے چہرے میں ایسی شان دیکھتا ہوں جو آفتاب کے چہرے کی شانوں سے بڑھ کر ہے۔