ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 191 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 191

191 ادب المسيح جائزہ لینے کے لیے ان دونوں اقدار ادب کو اہم قرار دیا ہے۔حضرت اقدس نے خارجی ہیئت کے قیام میں بہت احتیاط برتی ہے اور وزن قافیہ اور ردیف کا بتا کید التزام کیا ہے۔مگر داخلی بیت یعنی مواد ادب میں اصناف شعر کے مطابق اپنے کلام کومحدود اور مقید نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ حضرت کے کلام کا مواد ایک ہی ہے اور وہ محبت الہی ہے جو مختلف اصناف شعر میں صادر ہوا ہے مگر اصناف شعر کے مخصوص موضوعات شعر کو آپ حضرت نے درخوراعتنا نہیں سمجھا۔یعنی یہ کہ اصناف شعر میں غزل ہو یا مثنوی اور قطعات کی ہیئت مگر مواد کو محبت الہی کے دائرے میں محدود رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کے تمام کلام میں موضوعات شعری کی ایسی تعین نہیں ہے کہ اگر ابتداحمد وشاری نعت رسول سے ہوئی ہے تو دیگر روحانی اور دینی موضوعات کا ذکر نہ ہو۔حضرت اقدس تمام روحانی موضوعات کا محور اور نقطه مرکزی محبت الہی میں سمجھتے ہیں۔اس لیے آپ کے کلام میں یہ فنی احتیاط نہیں کہ نظم یا غزل ایک ہی موضوع میں مقید ہو۔آپ کا کلام خواہ غزل کی صنف میں ہو یا مثنوی کی۔اس کا مواد اور موضوع ایک ہی ہے اور وہ محبت الہی کا بیان ہے جو مختلف تجلیات الہیہ کے اظہار میں ظاہر ہوتا ہے۔اگر تکرار نہ ہو تو عرض کروں کہ آپ حضرت کے کلام کی یہ خاص ادا اللہ تعالیٰ کے فرمان کے اتباع نے پیدا کی ہے جہاں پر باری تعالیٰ نے تمام انبیاء کے کلام اور تعلیم کے فہم و ادراک کو حاصل کرنے کے لیے یہ شرط قائم کردی ہے کہ اس کے حصول کے لیے محبت الہی کا دل میں ہونا ایک لازم شرط ہے۔جیسے کہ فرمایا۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ۔۔۔الى الآخر (ال عمران: 32) آپ حضرت اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہولو اور میری راہ پر چلوتا خدا بھی تم سے پیار کرے (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) مشاہدہ کریں کہ اللہ تعالٰی نے قلب میں محبت الہی کو انبیاء کے عرفان اور تعلیم کو سمجھنے کے لیے شرط کے طور پر قائم فرمایا ہے۔آپ حضرت کے اسلوب بیان کا ایک نمونہ اردو زبان میں دیا جا چکا ہے۔ایک نمونہ فارسی مثنوی کا بھی دیکھ لیں ان اشعار کی مناجات سے ابتدا ہے فرماتے ہیں: اے خدا اے چارہ آزار ما اے علاج گریہ ہائے زار ما اے خدا۔اے ہمارے دکھوں کی دوا۔اے ہماری گریہ وزاری کا علاج