ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 168 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 168

المسيح 168 انہوں نے کبھی کم ہمتی اور بے دلی نہیں دکھائی۔“ (تفسیر حضرت اقدس الاحزاب : 24) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے کلام میں صدق کی علامت کو کامل طور پر صرف قرآن کریم کے اتباع میں اختیار کیا ہے۔آپ تمام انبیاء اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آفتاب صدق کہتے ہیں۔فرمایا: ہر رسولے آفتاب صدق بود ہر رسولی بود میر انورے ترجمہ۔ہر رسول سچائی کا سورج تھا۔ہر رسول نہایت روشن آفتاب تھا آن همه از یک صدف صد گوہر اند متحد در ذات و اصل و گوہرے ترجمہ: وہ سب ایک سچی کے سو موتی ہیں جو ذات اور اصل اور چمک میں یکساں ہیں انبیاء روشن گهر هستند لیک هست احمد زاں ہمہ روشن ترے ترجمہ: تمام نبی روشن فطرت رکھنے والے ہیں مگر احمد اُن سب سے زیادہ روشن ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صدق کا عاشق بھی کہتے ہیں عاشق صدق و سداد و راستی دشمن کذب و فساد و هر شرے وہ صدق سچائی اور راستی کا عاشق ہے مگر کذب و فساد اور شر کا دشمن ہے آپ حضرت دوسرے درجے پر اپنی ماموریت کو ” صدق کی تجلی کا نام دیتے ہیں۔فرماتے ہیں: کمال پاکی وصدق و صفا که گم شده بود دوباره از سخن و وعظ من بپا باشد پاکیزگی اور صدق کا کمال جو معدوم ہو گیا تھا وہ دوبارہ میرے کلام اور وعظ سے قائم ہوا ہے مرنج از سخنم ایکہ سخت بے خبری که اینکه گفته ام از وحی کبریا باشد اے وہ شخص جو بالکل بے خبر ہے میری بات سے ناراض نہ ہو کیونکہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے۔اور فرماتے ہیں۔بشنوید اے طالباں کز غیب بکنند ایں ندا مصلح باید که در هر جامفاسد زاده اند اے طالبو! سنو غیب سے یہ آواز آرہی ہے کہ ایک مصلح درکار ہے کیونکہ ہر جگہ فساد پیدا ہو گئے ہیں۔صادقم و از طرف مولی با نشانها آمدم صد در علم و ہدگی بر روئے من بکشادہ داند میں صادق ہوں اور مولی کی طرف سے نشان لے کر آیا ہوں علم و ہدایت کے سینکڑوں در مجھ پر کھولے گئے ہیں