ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 130
المسيح 130 یہ امر تو بد یہی ہے کہ اگر ادب جاہلیہ کی کوئی لسانی خوبی اور ادبی حسن و جمال نہ ہوتا تو یہ ناممکن تھا کہ قرآن کریم اپنی تمام ادبی عظمت و شان کے ہوتے ہوئے ایک ادنی اسلوب ادب کو دعوت مقابلہ دیتا۔موازنہ اور با ہم تقابل ہم مرتبہ اور ہم اسلوب ادب کے درمیان ہوا کرتا ہے۔جہاں پر زبان ایک ہوگی وہاں پر اس کی لغت اور بیان کا اسلوب بھی ایک ہی ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس نے عربی زبان کے فہم اور ادراک کو معارف قرآن کے سمجھنے کے لیے لازم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: اسی زبان پر فہم معارف قرآنیہ کا مدار ہے اور جو کہ ماہر علم ادب نہیں اور نابغہ شعراء میں سے نہیں ممکن نہیں کہ اس کو فقیہ کہا جاسکے۔( ترجمہ از مرتب) انجام انتقم ، رخ - جلد 11 صفحہ 265 ) ایک اور مقام میں تو بالکل وضاحت سے فرماتے ہیں: ائمہ راشدین نے جاہلیت کے ہزار ہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لیے انکو بطور سندلاتے تھے“ ( نزول مسیح ، رخ - جلد 18 صفحہ 434) یہاں تک تو عربی زبان کی تخلیق اور اس کی عظمت و شان کا ذکر ہوا ہے۔اب ہم اس زبان کے شعری اسلوب اور اس کے مخصوص موضوعات کو بہت اختصار سے پیش کرتے ہیں یہ بات تو بیان ہو چکی ہے کہ ہر قومی ادب کی تخلیق اور تشکیل میں اس قوم کے تمدنی اور سیاسی عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس قوم کی ذہنی ترجیحات اور قلبی پسند و نا پسند کی تعین کرتے ہیں اور اپنی ترجیحات دینی اور جذبات قلبی کا شعری بیان ہی ان کا ادبی سرمایہ ہوتا ہے۔عرب ایک جزیرہ نما ہے جس کی زمین خشک اور بنجر ہے۔زیر زمین پانی بہت کم یاب ہے اور بارش نہ ہونے کے برابر ہے۔اس لیے وہ زمین زراعت کے قابل نہیں اور نہ ہی شہری زندگی کے لیے موزوں ہے۔ان جغرافیائی تقاضوں کے تحت اس زمین کے باسی خانہ بدوش زندگی گذارنے پر مجبور تھے۔چراگاہ اور پانی کی تلاش میں اپنے جانوروں کو اور اپنے خاندانوں کو صحرا بصحر الیے پھرتے تھے اور جب بھی قحط پڑتا تو آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کر کے لوٹ مار کرنے لگتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ادب اور شعری محرکات میں بہادری اور مبارزت ( باہم جنگی مقابلے کی دعوت ) اور قحط سالی میں سخاوت بنیادی موضوعات شعر تھے۔اور انہی اخلاق واطوار میں باہم تفاخر اور تقابل اہم موضوع کلام تھا۔اگر ان سب محرکات شعری کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہوتو وہ لفظ ”مبارزت“ ہے یعنی جنگ و جدال۔اگر تلوار سے ہے تو بھی اور اگر با ہم مباہات میں ہے تو بھی۔اس شعری تجزیہ کے اثبات میں چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔