ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 103 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 103

103 قصیده ادب المسيح قبل میں ابیات کی صنف شعر میں حضرت اقدس کے اسلوب بیان کو اساتذ ہ کلام سے تقابل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔یہ مضمون قدرے مفصل ہو گیا ہے اس کے جواز میں اول یہ عرض ہے کہ ہم نے اس بیان میں اصولی اعتبار سے حضرت اقدس کے کلام کی منفرد اور ممتاز عظمت کو عمومی طور پر پیش کر دیا ہے دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ فارسی سرمایہ شعر میں ابیات کی صنف اپنی وسعت بیان اور فنی اعتبار سے ایک اہم مقام رکھتی ہے۔فارسی شعر میں مثنوی کے طرز میں لا تعداد کلام ہے۔تاریخ۔وعظ و نصیحت۔عشقیہ حکایات اور اخلاقیات سب اس صنف کے موضوعات ہیں اس لیے فارسی شاعری کی فنی اقدار اور کلاسیکی اسلوب زبان کی تعیین بہت حد تک اسی صنف شعر کی مرہون منت ہے۔فردوسی رومی۔سعدی اور عبدالرحمن جامی اور اس منصب کے بہت سے شعراء اس صنف میں طبع آزمائی کر کے اساتذہ فن شاعری کہلاتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں مثنوی کی طرز نگارش فارسی اسلوب بیان کا ایک مستحکم ستون ہے۔شاید فارسی شاعری کی اسی روایت پر چلتے ہوئے حضرت اقدس کا فارسی کلام بھی نصف یا اس سے کچھ کم و بیش اسی صنف شعر میں وارد ہوا ہے۔طوالت کا ایک سبب یہ بھی ہے۔یہی چند وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم نے ابیات یعنی مثنوی کی صنف کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔فارسی ادب میں ابیات کے بعد قصیدے کا مقام ہے۔جیسا کہ گذشتہ میں بیان شدہ قطعہ میں کہا گیا ہے ابیات و قصیده و غزل را فردوستی و انورتی و سعدی دراصل فارسی شعر میں ابیات اور قصیدہ ہی دو ایسی اصناف ہیں جن سے دیگر اصناف شعر نے جنم لیا ہے کیونکہ ان دواصناف شعر میں غزل اور مرثیہ۔رباعی اور قطعہ اور دیگر اصناف رزم و بزم کے مضامین بھی شامل ہوتے ہیں۔قصیدہ عربی شاعری کی اہم ترین صنف ہے فارسی زبان میں اسی توسط سے آیا ہے۔حقیقت میں فارسی اور اردو شاعری نے عربی قصیدہ میں ہی جنم لیا ہے اور ان کی تمام اصناف شعر اسی عربی صنف شعر کی رہین منت ہیں۔اپنی ہیئت کے اعتبار سے اس کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے اور باقی اشعار میں مصرعہ ثانیہ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ادب عربی کے دستور کے مطابق اس کا اول رکن ” تشبیب کہلاتا ہے جس میں تذکرہ شباب اور محبوب کی صفات بیان ہوتی ہیں۔