ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 104 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 104

المسيح 104 دوسرا رکن گریز“ کہلاتا ہے یعنی اول ذکر کے بعد چند اشعار میں روئے سخن ممدوح کی طرف کیا جاتا ہے اور تیسرے رکن میں ”مدح کو بیان کیا جاتا ہے اور چوتھے مرحلے پر دعا ہوتی ہے کہ ممدوح کی عمر دراز ہو اور فتح و کامرانی نصیب ہو اور مطلوب بھی بیان ہوتا ہے۔فنی اعتبار سے قصیدے کا یہی ڈھانچہ (STRUCTURE) ہے جو قدیم سے اس وقت تک قائم ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ فارسی شاعری عربی شاعری کی پروردہ ہے اور اردو شاعری نے ان دونوں زبانوں کی آغوش میں پرورش پائی ہے اسی لیے وراثت کے طور پر فارسی اور اردو شاعری کا اسلوب ادب عربی نقش ونگار رکھتا ہے۔تاہم فارسی زبان تک پہنچنے تک قصیدے کی وہ ہیئت نہیں رہی جو عربی کلاسیکی ادب میں تھی۔اس تبدیلی کی اہم وجہ تو یہ ہے کہ فارسی زبان میں قصیدہ سلاطین کے دربار سے وابستہ ہو گیا اور بادشاہوں کی مدح سرائی اس کا اولین موضوع بن گیا اس لیے عربی دستور کے مطابق تشبیب اور گریز کی ضرورت نہ رہی البتہ مدح اور حسنِ طلب اور دعا کے عناصر قائم رہے۔ایک وجہ اختلاف یہ بھی ہے کہ فارسی زبان کے قصیدہ نگاروں نے صرف مدح وستائش اور تفاخر کے موضوع سے کنارہ کشی کرتے ہوئے دیگر موضوعات پر بھی قصائد تخلیق کئے ہیں۔یہ چند وجوہات ہیں جن کی بنا پر فارسی قصیدے کی ہیئت بھی تبدیل ہوئی اور اس کو موضوعات کی وسعت بھی نصیب ہوئی نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ فارسی اساتذہ شعر نے مدیحہ قصائد کے ساتھ دیگر موضوعات پر بھی قصائد تخلیق کئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو قصائد مدیحہ نہیں اور دیگر موضوعات پر ہیں ان ہی کی بنا پر انور کی اور خاقانی جیسے عظیم المرتبت شاعروں نے اپنے ہنر کو پیش کیا ہے اور ادب فارسی کے شاہکار تخلیق کر کے داد تحسین لی ہے اور اساتذہ شعر کہلائے ہیں۔انوری کا وہ قصیدہ جو اس نے تاتاریوں کے حملہ کے بعد خراسان کی بدامنی کے بیان میں لکھا ہے۔فارسی ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے اس کے ابتدائی بند یہ ہیں۔بر سمرقند اگر بگذری ای باد سحر نامہ اہل خراسان به برخاقان بر اے صبح کی ہوا! اگر تو سمر قند سے گزرے تو اہل خراسان کا عریضہ خاقان کی خدمت میں پہنچا دینا۔نامه مطلع آں رنج تن وآفتِ جاں نامه مقطع آن درد دل و خونِ جگر ایسا عریضہ جس کا آغاز جسمانی رنج و درد اور روحانی تکلیف سے ہے۔جس کا اختتام درد دل اور خون جگر پر ہے۔