ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 102 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 102

ب المسيح 102 آخر پر ہندوؤں اور دہریوں پر ابلاغ رسالت کا مشاہدہ کریں۔جیسا کہ ہندو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روح اور مادہ ہمیشہ سے ہے اور مخلوق نہیں۔اس کے جواب میں فرماتے ہیں : اے ز تعلیم ز تعلیم وید آواره منکر از فیض بخش همواره اے کہ تو وید کی تعلیم کی وجہ سے گمراہ ہو گیا ہے اور دائی فیض رساں خدا کا منکر ہے اں قدیرے کہ نیست زو چارہ نزد تو عاجز ست و ناکاره وہ قادر جس کے سوا کسی کا گزارہ نہیں ہے تیرے نزدیک عاجز اور ناکارہ ہے بشنوی گر بود حق رُوئے شورِ قَالُوا بَلَى زِہر سُوئے اگر تیرا منہ خدا کی طرف ہو تو تو ضرور سُنے گا ہر طرف سے قالوا بلی کا شور آنکه با ذات او بقاؤ حیات چوں نباشد بدیع ما آں ذات وہ کہ جس کی ذات سے ہر بقا اور زندگی وابستہ ہے وہ ذات ہماری خالق کیوں نہیں ہوسکتی گے خدا ایں چنیں بود ہیہات ناتوانی ست طور مخلوقات کمزوری تو مخلوقات کا خاصہ ہے مگر خدا ایسا کیونکر ہو سکتا افسوس! ہے - گے پسندد خرد کہ رب قدیر ناتواں باشد وضعیف و حقیر عقل کب پسند کرتی ہے کہ قادر خدا کمزور ضعیف اور حقیر ہو