ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 86 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 86

المسيح 86 گزشتہ میں مصنف ”آب حیات“ کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ اردو شعری اسلوب کی تعیین کے چار رکن ہیں۔اور انہیں ارکان اربعہ پر آئندہ آنے والے ارباب شعر و خن نے مشق سخن کر کے اپنی اپنی عمارتیں قائم کی ہیں اور زبان کو رنگ و روپ دیا ہے اور آخر الامر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اردو زبان کا ادب سادہ اور سہل زبان میں گل کاری کرنا ہے جس کو مولانا حسرت موہانی نے بہت سادہ مگر خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے اور فریضہ اردوادب قرار دیا ہے۔رنگینی سخن میں بھی ہے سادگی کی شرط مشکل ہے اس طریقہ آساں کی احتیاط ہمیں اس تحقیق سے انکار نہیں۔ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر یہی بات محقق ہے۔اور یقینا ہے تو اس اسلوب ادب پر جو سب سے خوبصورت عمارت قائم ہوئی ہے وہ ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے۔اگر موضوعات شعر اور ترجیحات قلبی کے اختلاف کو پیش نظر رکھا جائے اور صرف اُن موضوعات شعری کا جائزہ لیا جائے جو آپ حضرت نے اختیار فرمائے ہیں تو اردو شعر میں کوئی شعر گو ایسا نہیں ملے گا جو ان کے مقابل پر تو کیا ان کے قریب بھی پہنچ سکے۔یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ باوجود اردو زبان کی کم عمری کے اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو اپنے خاص تصرف سے جلدی جلدی پروان چڑھا کر اس قابل بنایا کہ وہ حضرت اقدس کی آمد تک آپ کے کلام کی مدد سے اس مقام تک پہنچ جائے کہ عرفان باری تعالیٰ کے دقیق اور علوی مضامین اور محبت الہی کی کیفیات کو بیان کرنے کے قابل ہو۔اردو زبان پر حضرت اقدس کا یہ ایک عظیم احسان ہے۔اس وقت تعصب کی کوتاہ بین آنکھ اس ادبی حسن و جمال کا نظارہ کرنے سے قاصر ہے۔مگر ایک ایسا وقت ضرور آئے گا کہ آپ کی اس منفردشان کو تمام ادبی محفلوں میں بیان کیا جائے گا اور اس پر مقالے لکھے جائیں گے انشاء اللہ تعالی۔