ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 85 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 85

85 ادب المسيح نذیر ہونے کے منصب کے مطابق فرماتے ہیں: دوستو جا گو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے پھر خُدا قد رت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے وہ جو ماہ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقیں سمجھو کہ وہ اک زجر سمجھانے کو ہے آنکھ کے پانی سے یارو! کچھ کرو اس کا علاج آسماں اے غافلو ! اب آگ برسانے کو ہے اور فرماتے ہیں: سونے والو! جلد جاگو یہ نہ وقت خواب ہے جو خبر دی وہی حق نے اُس سے دل بیتاب ہے زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمیں زیر و زبر وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے ہے سر رہ پر کھڑا نیکوں کی وہ موٹے کریم نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے اور فرماتے ہیں: حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے پھر چلے آتے ہیں یا رو زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن فرماتے ہیں: ابلاغ _ قوم کونصیحت یارو! خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں جو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں! باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں؟ حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں کب تک رہو گے ضِد و تعصب میں ڈوبتے ! آخر قدم بصدق اُٹھاؤ گے یا نہیں کیونکر کرو گے رڈ جو محقق ہے ایک بات؟ کچھ ہوش کر کے عذر سُناؤ گے یا نہیں؟ سچ سچ کہو اگر نہ بنا تم سے کچھ جواب ! پھر بھی یہ منہ جہاں کو دکھاؤ گے یا نہیں؟ اور فرماتے ہیں: وقت تھا وقت مسیحانہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا اور آخر پر اس درد بھری آواز کو بھی سُن لیں دوستو اک نظر خُدا کے لیے سید الخلق مصطفے کے لیے