ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page vii
ادب المسيح آپ کے فارسی ادب کے عارفانہ ذوق سلیم کی تصدیق میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی تیتر بھی ہے جو آپ اسی الثانی نے میری والدہ کی وفات پر ان کے ذکر میں لکھی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے ایک مرتبہ اپنے خط میں لکھا کہ میں اپنی زندگی کا مسلک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان کے مطابق بنانے کا فیصلہ کر چکی ہوں“: بر آستان آں کہ ز خود رفت بیر یار چوں خاک باش و مرضی یارے دراں بجو آپ حضرت اقدس کے شعر کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر تو خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کی تلاش کر جو خدا تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کو کھو چکا ہو۔پھر اس کے دروازے پر مٹی کی طرح بے خواہش ہو کر گر جا اور اس طرح سے خدا کی رضا حاصل کر“ اور فرماتے ہیں: ” بخدا اس نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا کر دیا۔زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی۔وہ حقیقی معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں خاک ہوئی پڑی ہے۔“ اور دعا دیتے ہیں: ”اے راحم خدا تو اس گری ہوئی کو اٹھا لے اور اس پر پوری طرح سے راضی ہو جا۔آمین الفضل 23 جون 1933 ) جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عارفانہ شعری ادب کا ایسا گہرا فہم اور ذوق سلیم اس انتساب کی دوسری مناسبت ہے۔خدا کرے کہ یہ کوشش ان کے ذوق شعر وادب کے معیار سے قریب تر ہو۔آمین۔والسلام خاکسار مرزا حنیف احمد ور رمضان المبارک 1428 ہجری 22 ستمبر 2007