ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page viii
ix ادب المسيح اظہار تشکر اول تو خاکسار کی طرف سے ہمارے پیارے باری تعالیٰ کا بے حد و حساب شکر ہے کہ اُس نے صرف اپنے بے پایاں احسان کے تحت یہ توفیق دی ہے کہ خاکسار با وجود کم علمی کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کے محاسن پیش کر سکے۔فالحمد للہ۔الحمد للہ۔والحمد للہ علی ذالک۔اس عنایت خاص کے تشکر میں خاکسار اپنی ذات کو بے انتہا کم درجے پر رکھتے ہوئے بہت عاجزی سے اپنے آقا کے اشعار ہی کو پیش کر سکتا ہے جو بہر وجوہ خاکسار پر اطلاق پاتے ہیں۔اپنی کم علمی اور محدود استعداد کی بنا پر یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار اور اللہ تعالیٰ کے خالص احسان اور عنایت کی بنا پر ہے۔نگاه رحمت جاناں عنایت با بمن کردست وگرنہ چوں منے کے یا بد آں رشد و سعادت را ترجمہ: محبوب کی نگاہ رحمت نے مجھ پر بڑی عنایتیں کی ہیں ورنہ مجھ جیسا انسان کس طرح اس رشد و ہدایت کو پاتا۔اس خدمت کے معاونین میں وہی دو نام ہیں جنہوں نے خاکسار کی کتاب تعلیم فہم القرآن کی تیاری میں بہت خدمت کی تھی۔اول میجر ریٹائرڈ سعید احمد صاحب ابن چوہدری محمد بوٹا صاحب مرحوم ہیں۔دوم چوہدری محمد ادریس صاحب ابن مولانامحمد اسماعیل صاحب دیا لگڑھی مرحوم مبلغ سلسلہ عالیہ احمد یہ ہیں۔ان دونوں اصحاب نے میرے علمی مسودے کو خوشخط کیا اور پھر بہت محنت اور لگن سے لفظاً لفظاً PROOF READING کی۔یہ ایک مشکل اور صبر آزما کام تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام سے محبت کو قبول کرے اور آخر دم تک اس کو بڑھاتا چلا جائے۔آمین۔خاکسار ان دونوں کا بہت شکر گزار ہے اور ان کے لیے دعا گو ہے۔یہ امر بہت قابل تحسین ہے کہ محترم میجر ریٹائرڈ سعید احمد صاحب نے اس کتاب میں درج شدہ آیات قرآنیہ کا انڈیکس بھی بہت محنت سے تیار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزاء دے۔