ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 40 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 40

المسيح 40 حضرت اقدس کے کلام کی تخلیق اور ترجیحات شعر کا مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے تصرفات کے تحت پیدا ہونا اور اس کے حکم کے مطابق ابلاغ رسالت کرنا ہی وہ عنصر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ” چیزیست کا نام دیا ہے اور یہی وہ محترک ادب ہے جو تمام مرسلین باری تعالیٰ کو دیا جاتا ہے اور اس عنایت خاص میں دیگر شعراء کو دخل نہیں ہوتا اور اسی بنا پر مرسلین باری تعالیٰ کا مکتب شعر زمینی شاعروں کے مکتب شعر سے ممتاز اور جداگانہ نوعیت کا ہو جاتا ہے۔آخر پر ہماری گذارشات کی تائید اور تصدیق میں حضرت اقدس کے اس فرمان کو بھی دیکھ لیں جو اس مضمون کی روح کو اس قدر صدق اور یقین سے بیان کر رہا ہے جو کہ ایک مرسل باری تعالیٰ کا ہی منصب ہو سکتا ہے۔فرماتے ہیں:۔اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں۔کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔(ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 403) اب ہم اس مقام پر ہیں کہ یہ بیان کریں کہ مرسلین باری تعالیٰ کی اس منفرد تعلیم و تدریس کے مضامین اور موضوعات کیا ہیں جو کہ اس درس گاہ کا نصاب بنتے ہیں۔اور جن کے اظہار اور افشا کا حکم بارگاہ الہی سے دیا جاتا ہے۔