ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 31
31 ادب المسيح رسول کی یہ شان ہے کہ اس کے آگے بھی اور اسکے پیچھے بھی محافظ فرشتوں کی گار دچلتی ہے۔لِيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسلتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَاَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا۔تا کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ ان رسولوں نے اپنے ربّ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور اللہ جو کچھ ان کے پاس ہے اس کو اپنے احاطے میں رکھتا ہے اور ہر چیز کو گن رکھتا ہے۔مید وہ فرمان ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تلامیذ الرحمان کی درسگاہ کا تفصیلی دستور بیان کیا ہے۔ان آیات میں اول تو یہ واضح کر دیا کہ یہاں پر درسگاہ سے انبیاء کی تعلیم وتربیت کا ذکر ہے دوم یہ بتایا کہ ہم اپنا عرفان خاص بندوں کو دیتے ہیں۔سوم یہ فرمایا کہ ان ہونہار شاگردوں کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ ابلاغ رسالت کریں۔جیسا کہ اس سورت کی آیت میں فرمایا إِلَّا بَلغَا مِنَ اللهِ وَرِسلته (الجن : 24) یعنی میرا تو صرف یہ کام ہے کہ میں اللہ کی بات اور اس کا پیغام پہنچا دوں۔ابلاغ رسالت کو ایک اور مقام میں بہت وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِي بِةٍ أَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبّى وَرَبَّكُمُ۔۔۔(المائدة: 118) میں نے تو صرف وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اللہ کی عبادت کرو۔جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔چہارم یہ کہ اس مقصد کے حصول کے لیے فرشتوں کی ایک فوج ان کی مددگار ہوتی ہے۔پنجم یہ کہ ان کی قابلیتیں اور استعدادیں خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوتی ہیں۔اور شم یہ کہ ان سے کوئی ایسی بات ظاہر نہیں ہوتی جو خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق نہ ہو۔ان فرمودات باری تعالٰی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مرسلین باری تعالیٰ کے کلام کی تخلیق کے محرکات اور عوامل اور ان کی ادبی استعدادوں پر اللہ تعالیٰ کا قادرانہ تصرف ہوتا ہے۔وہی ان کو ابلاغ رسالت کے لیے انتخاب کرتا ہے اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے ہمہ وقت ان کی نگرانی کرتا ہے اور ان کی استعدادوں اور قابلیتوں کا خود کفیل ہوتا ہے۔تفصیلی تصرفات الہیہ اس امر کو بھی ثابت کرتے ہیں کہ ان کے کلام میں کوئی خارجی محرک کارفرما نہیں ہوتا ہے۔ان کے مشاہدات، احساسات اور جذبات تمام تر خدا تعالی کی درس گاہ کی تعلیم وتربیت اور عطاء خاص ہوتی ہے اور یہ کہ وہ محبوب حقیقی کے حسن و جمال اور اس کے بیان کی حدود سے باہر نہیں نکل سکتے۔ادب مرسلین کی اس کیفیت کو حضرت اقدس نے بہت ہی دلفریب انداز میں بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں۔من در حریم قدس چراغ صداقتم دستش محافظ است ز هر بادِ صرصرم میں درگاہ قدس میں صداقت کا چراغ ہوں۔اُسی کا ہاتھ ہر تیز ہوا سے میری حفاظت کرنے والا ہے۔