ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 28
المسيح نگرانی میں تشکیل پاتے ہیں۔اس مضمون میں اردو میں فرماتے ہیں 28 ابتدا سے گوشئہ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار اس میں میرا جرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا کون ہوں تا رڈ کروں حکیم شہ ذی الاقتدار اب تو جو فرماں ملا اس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار اور عربی میں فرماتے ہیں بِمُطَّلِعٍ عَلَى أَسْرَارِ بَالِى بِعَالِمِ عَيْبَتِي فِي كُلِّ حَالِي قسم اس ذات کی جو میرے دل کے بھیدوں سے آگاہ ہے او قسم اس ذات کی جو ہر حال میں میرے سینے کے راز سے واقف ہے لَقَدْ أُرْسِلْتُ مِنْ رَّبِ كَرِيمٍ رَحِيمٍ عِنْدَ طُوفَانِ الضَّلَالِ بے شک میں رب کریم رحیم کی طرف سے طوفانِ ضلالت کے وقت بھیجا گیا ہوں بِالْإِبْدَاءِ أَتْرُكُ أَمْرَ رَبِّي وَمِثْلِى حِيْنَ يُؤْذَى لَا يُبَالِي کیا دُ کھ دئے جانے سے میں اپنے رب کے کام کو چھوڑ دوں؟ جبکہ میرے جیسا آدمی ایذا دئے جانے پر پرواہ نہیں کیا کرتا اور فارسی میں فرماتے ہیں۔مامورم و مرا چه درین کار اختیار رو این سخن بگو بخداوند آمرم میں تو مامور ہوں مجھے اس کام میں کیا اختیار ہے جا! یہ بات میرے بھیجنے والے خدا سے پوچھ حکم است از آسمان بز میں میرسانمش گر بشنوم نگویمش آن را کجا برم آسماں کا حکم میں زمین تک پہنچاتا ہوں۔اگر میں اُسے سنوں اور لوگوں کو نہ سناؤں تو اُسے کہاں لے جاؤں من خود نگویم اینکه بلوح خدا ہمیں است گر طاقت ست محو کن آں نقش داورم میں خود یہ بات نہیں کہتا بلکہ لوح محفوظ میں ہی ایسا لکھا ہے اگر تجھ میں طاقت ہے تو خدا کے لکھے ہوئے کو مٹادے۔اس حقیقت کے بیان میں قرآن کریم کے بہت سے فرمودات ہیں جو آسمانی ادیبوں یعنی انبیاء علیہم السلام کی ادبی اور روحانی سیرت کی تشکیل کے عوامل و محرکات پر روشنی ڈالتے ہیں۔دل تو یہ چاہتا ہے کہ پچن چن کر قرآن کریم کے وہ جواہر پارے جن میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی سیرت کی تشکیل کا دستور عمل بیان کیا ہے ایک ترتیب سے پیش کروں اور اس حقیقت کی وضاحت کروں کہ انبیاء کی روحانی