ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 439
ہم چنین عشقم بروئے مصطفے 439 ادب المسيح دل پرد چوں مُرغ سوئے مُصطفے ایسا ہی عشق مجھے مصطفے کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفے کی طرف اُڑ کر جاتا ہے تا مرا دادند از حُسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر جب سے مجھے اُس کے حسن کی خبر دی گئی ہے۔میرا دل اُس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے منکہ مے بینم رخ آں دلبرے جاں فشانم گردید دل دیگرے میں اُس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں۔اگر کوئی اُسے دل دے تو میں اُس کے مقابلہ پر جان نثار کر دوں ساقی من ہست آں جاں پرورے ہر زمان مستم کند از ساغری وہی روح پرور شخص تو میرا ساتی ہے جو ہمیشہ جامِ شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے مجو روئے اُو شد است ایں رُوئے من بوئے اُو آید زبام و کوئ من میرا چہرہ اُس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اُسی کی خوشبو آرہی ہے بسکه من در عشق او هستم نہاں من همانم - من بمانم - من ہماں از بسکہ میں اُس کے عشق میں غایب ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں جان من از جان او يابد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا! میری روح اُس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریباں سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد اندر جان احمد محمد پدید اسم من گردید آں اسم وحید احمد کی جان کے اندراحمد ظاہر ہو گیا اس لیے میر او ہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے عربی زبان میں فرماتے ہیں: وَإِنِّي وَرِثْتُ الْمَالَ مَالَ مُحَمَّدٍ فَمَا أَنَا إِلَّا آلُهُ الْمُتَخَيَّرُ اور میں محمد کے مال کا وارث بنایا گیا ہوں۔پس میں اس کی آل برگزیدہ ہوں جس کو ورثہ پہنچ گیا وَ كَيْفَ وَرِثْتُ وَلَسْتُ مِنْ أَبْنَائِهِ فَفَكِّـرُ وَ هَلْ فِي حِزْبِكُمْ مُّتَفَكِّرُ اور میں کیونکر اس کا وارث بنایا گیا ہوں جب کہ میں اس کی اولاد میں سے نہیں ہوں پس اس جگہ فکر کر کیا تم میں کوئی بھی فکر کرنے والا نہیں؟ اَتَزَعَمُ أَنَّ رَسُولَنَا سَيِّدَ الْوَرى عَلى زَعْمِ شَانِيهِ تُوَفِّيَ اَبْتَرُ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پائی ؟ جیسا کہ دشمن بد گو کا خیال ہے