ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 426
المسيح 426 اغثنی یا الهی آمدنی وبشر بمقصودى حنانا و خبر اے میرے خدا! میری فریا درسی کر۔اے میرے خدا! میری مددکر اور مہربانی سے میرے مقصود کی بشارت دے اور آگاہ کر انرنی بنورک یا ملاذی و ملجای نعوذ بوجهک من ظلام مدعثر مجھے اپنے نو رو سے منور کر دے۔اے میرے ملجاً و مالی! ہم تیری ذات کی پناہ لیتے ہیں چھا جانے والی تاریکی سے فارسی زبان میں ایک دل ہلا دینے والی اور خوف خدا کو انگیخت کرنے والی مناجات ہے۔اسلامی ادب میں اس کی مثال نہیں ملتی کیونکہ اس میں آپ حضرت نے اپنے صدق دعویٰ پر خدا تعالیٰ کو گواہ ٹھہرایا ہے۔یہ ایک یک طرفہ مباہلہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے مناجات ہے کہ اگر میں تیری جناب سے اس منصب پر قائم نہیں کی گیا تو مجھ سے مؤاخذہ کر اور بہت دل ہلا دینے والی دعا کی ہے کہ اس صورت میں۔فرماتے ہیں: اے قدیر و خالق ارض و سما اے رحیم و مهربان و رہنما! اے قادر اور آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! اے رحیم۔مہربان اور رستہ دکھانے والے اے کہ مے داری تو بر دلها نظر اے کہ از تو نیست چیزے مستتر اے وہ جو کہ دلوں پر نظر رکھتا ہے اے وہ کہ تجھ سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں گر تو می بینی مرا پُر فسق و شر گر تو دیداستی کہ ہستم بد گہر اگر تو مجھے نافرمانی اور شرارت سے بھرا ہوا دیکھتا ہے اور اگر تو نے دیکھ لیا ہے کہ میں بدذات ہوں پاره پاره کن من بدکار را شاد کن ایس زمرہ اغیار را تو مجھ بدکار کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈال اور میرے ان دشمنوں کے گروہ کو خوش کر دے بر دل شاں ابر رحمت با بیار ہر مراد شاں بفضل خود برآر ان کے دلوں پر اپنی رحمت کا بادل برسا اور اپنے فضل سے ان کی ہر مراد پوری کر آتش افشان بر در و دیوار من! منم باش و تبه کن کار من میرے در و دیوار پر آگ برسا میرا دشمن ہو جا اور میرا کاروبار تباہ کردے اور اگر ایسا نہیں اور میں آپ کی طرف سے مسیح اور مہدی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور تیری بندگی اور اطاعت میں سرشار ہوں تو اس صورت میں۔فرماتے ہیں: