ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 406 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 406

ب المسيح 406 اک دن وہی مقام تمہارا مقام ہے اک دن یہ صبح زندگی کی تم پہ شام ہے اک دن تمہارا لوگ جنازہ اُٹھائیں گے پھر دفن کر کے گھر میں تاسف سے آئیں گے اے لوگو! عیش دُنیا کو ہر گز وفا نہیں کیا تم کوخوف مرگ و خیالِ فنا نہیں سوچو کہ باپ دادے تمہارے کدھر گئے کس نے بُلالیا وہ سبھی کیوں گزر گئے وہ دن بھی ایک دن تمہیں یارو نصیب ہے خوش مت رہو کہ کوچ کی نوبت قریب ہے ڈھونڈ و وہ راہ جس سے دل وسینہ پاک ہو نفس دَنی خُدا کی اطاعت میں خاک ہو ایک بہت پیار کلام جو حقیقت میں اس مضمون کی جان ہے اور حضرت اقدس کے واصل باللہ ہونے کا ثبوت ہے اس کو بھی سُن لیں۔تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام اُن کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہِ روزگار مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر کو بہت دُنیا میں گذرے ہیں امیر و تاجدار داغ لعنت ہے طلب کرنا زمیں کا عز و جاہ