ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 394
ب المسيح 394 فائز ہونے کے کس قدر عاجزی سے فرماتے ہیں: کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب و جوار کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار فارسی میں فرماتے ہیں کہ بجز و نیاز وصال باری تعالیٰ کی شرط ہے۔فرماتے ہیں: از خدا باشد خدا را یافتن نے بہ مکر و حیله و تدبیر و فن خدا کی مدد مدد سے ہی خدا کو پاسکتے ہیں نہ کہ چالاکی ، حیلہ اور مکر و فریب کے ساتھ تانیا ئی پیش حق چوں طفل خورد هست جامِ تو سراسر پر ز درد جب تک تو چھوٹے بچے کی طرح خدا کے سامنے نہ آئیگا۔تب تک تیرا جام صرف تلچھٹ سے ہی بھرار ہیگا شرط فیض حق بود عجز و نیاز کس ندیده آب بر جائے فراز خدا کے فیضان کے لیے بجز و نیاز شرط ہے۔کسی نے پانی کو اونچی جگہ ٹھہر تے نہیں دیکھا حق نیازے جوید آنجا ناز نیست از پر خود تا درش پرواز نیست خدا کو عاجزی پسند ہے وہاں فخر کام نھیں آتا۔اپنے پروں سے اُس تک اڑ کر نہیں پہنچ سکتے عاجزان را ذاتِ اجل پرورد سرکشاں محروم و مردود ازل وہ بزرگ ذات عاجزوں کی پرورش کرتی ہے۔اور سرکش ہمیشہ محروم و مردود رہتے ہیں چوں نیائی زیر تاب آفتاب کے فتد بر تو شعاعی در حجاب جب تک تو سورج کی روشنی کے سامنے نہیں آتا۔تو پردہ کے پیچھے تجھ پر اس کی روشنی کیونکر پڑسکتی ہے اس مضمون میں ایک مفصل اور عارفانہ کلام کا دوبارہ مشاہدہ کریں۔