ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 387 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 387

387 ادب المسيح حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: جذب اور عقدِ ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور ظلّ اللہ بنتا ہے پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لیے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا وہ اس پر سخت گراں ہے اور اسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یہ وہ صفات اور انداز ہیں جن کی بنا پر آپ میں خاکساری۔عاجزی اور مقابل پر عفو و درگذر کی صفات پیدا ہوئیں۔یہی وہ غریبی میں فخر کا انداز ہے کہ آپ نے ایک شخص کو (جو آپ کے رعب اور تمکنت سے بہت مرعوب ہوکر کانپنے لگا تھا) فرمایا کہ ایسے خائف نہ ہو جاؤ میں تو ایک ایسی ماں کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کا ٹکڑا چبا کر اپنی بھوک مٹاتی تھی۔یہی وہ ہمدردی اور رحم ہے جس پر آپ نے ایک مزدور کا کٹا پھٹا ہاتھ چوم لیا اور غریبی اور بے آرام زندگی کو اختیار کیا اور دعا کی کہ اللہ آپ کو غریبوں اور مسکینوں میں رکھے اور انہی میں سے اُٹھائے اور یہی وہ کر دار علوی تھا جس کی بنا پر آپ نے فرمایا کہ مجھے القاب نہ دو میرا لقب ”عبد“ ہے اور اس طرح سے اس سفلی دنیا کے تفاخر اور تمنا سے بے تعلق ہو گئے۔اللهم صل علی سیدنا محمد و علی ال محمد و بارک و سلّم انک حمید مجید۔اس مضمون میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم بھی ہوا کہ عفو کو اختیار کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو اور آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تعمیل میں اعلیٰ اخلاق دکھائے۔فرمایا: خُذِ الْعَفْوَ وَأمُرُ بِالْعُرْفِ وَاعْرِضْ عَنِ الجهلِينَ (الاعراف : 200) حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بُری طرح ستایا گیا۔مگر ان کو أَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ کا ہی فرمان ہوا۔خود اُس انسانِ کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بُری تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں۔بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا۔اُن کے لیے دعا کی۔اور چونکہ اللہ تعالے نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح سلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر