ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 386
ب المسيح 386 عاجزی اور خاکساری اس کتاب میں ہم نے ایک مضمون ” حضرت کا ادب ایک منفر د مکتب ادب ہے“ کے عنوان سے باندھا ہے جس میں ہم نے یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر ادب کا ایک دوسرے سے ممتاز صح نظر اور جدا گانہ ترجیحاتِ ادبی ہوتی ہیں اس لئے اُس کے حسن و خوبی کو پسند کرنے اور دل میں جگہ دینے کے لیے لازم ہے کہ سامع اور مخاطب کی بھی وہی تر جیحات زندگی ہوں اور وہی دلی تمنائیں ہوں جو ادیب کی ہیں۔اس حقیقت کی وضاحت میں غالب کا ایک شعر پیش کیا تھا جواد بی تجزیہ اور انتقاد میں تاثیر کے اعتبار سے ایک عظیم الشان اور زندہ جاوید بیان ہے۔کہتا ہے دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے یعنی شعر میں لذت اور تاثیر اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ شعر کا مضمون سننے والے کے قلبی رجحانات اور ذہنی ترجیحات کے مطابق ہو۔ادبی اعتبار سے یہی اصل الاصول ہے جس کی بنا پر ذہنی رجحانات رکھنے والے زمینی ادب کے شیدائی ہوتے ہیں اور آسمانی یعنی روحانی رجحانات رکھنے والے خدا تعالیٰ اور انبیاء اصفیاء کے کلام پر فدا ہوتے ہیں۔ادب عالیہ کی یہ باہم دگر ممتاز نوعیت ایک طرف سامع کی ترجیحات زندگی کی نقاب کشائی کر رہی ہوتی ہے وہاں پر دوسرے اعتبار سے اُس کے جذبات کی تربیت اور رجحانات کو صیقل بھی کر رہی ہوتی ہے۔اول عمل تو زمینی ادب کی کارفرمائی ہوتی ہے۔مگر دوسرا عمل جس میں سامع کے روحانی جذبات کی تربیت اور قلبی رجحانات کو صیقل کرنا شامل ہے۔خالصۂ روحانی ادب کا تخلیقی منشا اور مدعا ہوتا ہے۔جب ہم اس زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم اور دیگر صحف سماوی اور انبیاء کا کلام روحانی جذبات اور اخلاق کو زندہ کرنے اور ان کی تعدیل ہی کی غرض سے تخلیق ہوا ہے۔اور اگر ہم یہ کہیں کہ ان کا منشاء ایک روحانی اور اخلاقی شخصیت اور کردار پیدا کرنا ہے تو یقیناً بجا ہوگا۔قرآن کریم کے ادب عالیہ سے جو سب سے اعلیٰ وارفع صاحب اخلاق حسنہ شخصیت پیدا کی ہے (جس پر ہمارے ماں باپ فدا ہوں ) وہ ہمارے آقا اور مطاع محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جسکو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا۔لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبه: 128)