ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 383
383 ادب المسيح فَلا تَقْعُطُ مِنَ اللَّهِ الرَّءُ وُفِ وَقُمْ وَ بِتَوْبَةٍ نَحْوِى تَعَالِ پس خدائے مہربان کی طرف سے ناامید مت ہو۔اٹھ اور تو بہ کے ساتھ میری طرف آ قَرَيْنَا مِنْ كَمَالِ النُّصْحَ فَاقْبَلُ قِرَانَا بِالتَهَلُلِ كَالرِّجَالِ ہم نے کمال خیر خواہی سے تمہاری ضیافت کی ہے پس تو ہماری مہمانی کو مردوں کی طرح خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کر وَخَيْرُ الزَّادِ تَقْوَى الْقَلْبِ لِلَّهِ فَخُذْ إِيَّاهُ قَبْلَ الْإِرْتِحَالِ اور بہترین تو شہ دل کا خدا سے ڈرنا ہے پس (دنیا سے) کوچ کرنے سے پہلے اسے لے لے وَفَكِّرُ فِي كَلامِي ثُمَّ فَكِّرُ وَلَا تَسُلُكُ كَمَرِءٍ لَا يُبَالِي اور میرے کلام میں غور کر اور ایسے آدمی کا طریق اختیار نہ کر جو لا پرواہی کرتا ہے دوسرے مقام میں آپ اپنی جناب کو وارث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر پیش کر کے فرماتے ہیں کہ انسان کا حسب نسب اُس کے تقویٰ کے معیار پر ہوتا ہے۔فرماتے ہیں: وَإِنَّا وَرِثَنَا مِثْلَ وُلْدِ مَتَاعَهُ فَلَى ثُبُوتٍ بَعْدَ ذَلِكَ يُحْضَرُ اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی۔پس اس سے بڑھ کر اور کون سا ثبوت ہے، جو پیش کیا جائے؟ لَهُ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِيرُ وَ إِنَّ لِي غَسَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ أَتُنكِرُ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔اب کیا تو انکار کرے گا؟ وَكَانَ كَلامٌ مُعْجِز آيَةً لَّهُ گذلِكَ لِي قَولِى عَلَى الْكُلِّ يَبْهَرُ اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب إذا الْقَوَمُ قَالُوا يَدَّعِرُ الْوَحْيَ عَامِدًا عَجِبْتُ فَإِنِّي ظِلُّ بَدْرٍ يُنَوِّرُ جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمداً وحی کا دعوی کرتا ہے۔میں نے تعجب کیا کہ میں تو رسول اللہ کا ظل ہوں وَ أَنَّى لِظِلَّ أَنْ يُخَالِفَ أَصْـلَـهُ فَمَا فِيهِ فِي وَجُهِيَ يَلُوحُ وَيَزْهَرُ اور سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے۔پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے وَأَنَّى لَدُونَسَبٍ كَاصْلٍ أُطِيعُهُ وَمِنْ طِينِهِ الْمَعْصُومِ طِيْنِى مُعَطَّرُ اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ذو نسب ہوں۔اور اس کی پاک مٹی کا مجھ میں ضمیر ہے