ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 377
377 ادب المسيح آپ حضرت اس آیت کا ترجمہ اور تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرنے والے ہیں۔تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عجب۔خود پسندی۔مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقوی ہے جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (حم السجدة : 35 ) اس آیت کی بہت عارفانہ تفسیر کرتے ہوئے تقوی کی اہمیت کو بیان فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حمایت اور نصرت میں ہوتا ہے جو تقوی اختیار کریں۔تقوی کہتے ہیں بدی سے پر ہیز کرنے کو۔اور محسنون وہ ہوتے ہیں جو اتنا ہی نہیں کہ بدی سے پر ہیز کریں بلکہ نیکی بھی کریں۔اور پھر یہ بھی فرمایا لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنَى (یونس : 27) - یعنی ان نیکیوں کو بھی سنوار سنوار کرتے ہیں۔مجھے یہ وحی بار بار ہوئی إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ اور اتنی بار ہوئی کہ میں گن نہیں سکتا۔خدا جانے دو ہزار مرتبہ ہوئی ہو اس سے غرض یہی ہے کہ تا جماعت کو معلوم ہو جاوے کہ صرف اس بات پر ہی فریفتہ نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں یا صرف خشک خیالی ایمان سے راضی ہو جاؤ۔اور اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت اسی وقت ملے گی جب کچی تقوی ہو اور پھر نیکی ساتھ ہو۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یہی وہ فرمودات قرآن ہیں جن کی تفسیر وتعبیر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جامع اور فیصلہ کن فرمان جاری کیا ہے۔خَيْرُ الزَّادِ التَّقْوى“ یعنی خدا تعالیٰ کی جناب میں جو چیز مقبول ہوگی وہ تقوی ہی ہے۔اسی زادِ راہ کا ذکر حضرت اقدش کر رھے ہیں اور فرماتے ہیں: اے دوستو پیارو! عقبے کو مت بسارو کچھ زادِ راہ لے لو کچھ کام میں گزارو دنیا ہے جائے فانی دل سے اِسے اُتارو یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اب ہم اردو زبان میں حضرت اقدس کا تقوی کے مضمون میں عالی شان کلام جو اردوادب میں شاہکارنمونہ ہیں اور بے انتہا مؤثر اور دل گرمانے والے اشعار ہیں ، پیش کرتے ہیں۔