ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 376
ب المسيح 376 ہم نے اس آیت کو اس لیے بھی انتخاب کیا ہے کہ حضرت اقدس نے اس آیت کی تفسیر میں بہت تفصیل سے تقوی کے مضمون پر روشنی ڈالی ہے اس مضمون میں اس آیت کے تحت تفسیر حضرت اقدس کے فرمودات کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔آپ حضرت فرماتے ہیں کہ تقویٰ قرآن شریف کی علت غائی ہے۔قرآن شریف تقوی ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے اگر انسان تقوی اختیار نہ کرے تو اُس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہوسکتی ہیں چنانچہ اس کی طرف اشارہ کر کے سعدی کہتا ہے کلید در دوزخ است آن نماز که در چشم مردم گذاری دراز وہ نماز دوزخ کے دروازہ کی کنجی ہے جو کہ لوگوں کے سامنے لمبی لمبی کر کے پڑھی جائے ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) فرماتے ہیں: ساری جڑ تقوی اور طہارت ہے اسی سے ایمان شروع ہوتا ہے اور اسی سے اس کی آبپاشی ہوتی ہے اور نفسانی جذبات دیتے ہیں۔ایک اور مقام پر فرماتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) تقوی کے مضمون پر ہم کچھ شعرلکھ رہے تھے اس میں ایک مصرع الہامی درج ہوا۔وہ شعر یہ ہے: ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اس میں دوسرا مصرعہ الہامی ہے جہاں تقوی نہیں وہاں حسنہ حسنہ نہیں اور کوئی نیکی نیکی نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی تعریف میں فرماتا ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔قرآن بھی اُن لوگوں کے لیے ہدایت کا موجب ہوتا ہے جو تقوی اختیار کریں۔ابتدا میں قرآن کے دیکھنے والوں کا تقوی یہ ہے کہ جہالت اور حسد اور بخل سے قرآن شریف کو (نہ) دیکھیں بلکہ نور قلب کا تقوای ساتھ لیکر صدق نیت سے قرآن شریف کو پڑھیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) تقوی کے مضمون میں دوسرا فرمانِ قرآن یہ ہے: إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل : 129)