ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 375 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 375

375 تقویٰ ادب المسيح حضرت اقدس کے کلام کا یہ موضوع بھی ان موضوعات میں شمار ہوتا ہے جن کا نام ونشان اسلامی ادب میں نہیں ملتا۔نیکی کی ترغیب اور برائی سے پر ہیز کا مضمون تو اکثر فارسی اور اردو اساتذہ شعر میں جستہ جستہ بیان کے طور پر ضرور ملتا ہے مگر قرآن کریم کے فرمودات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کرام کے ارشادات کے مطابق جس صفت کو تقوی کہتے ہیں وہ قرآن کریم اور اسوہ رسول کی رضا جوئی اور اطاعت میں کئے گئے نیک اعمال کو کہتے ہیں۔جیسے فرمایا: إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) اس فرمان کے ترجمہ میں حضرت فرماتے ہیں: اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول کیا کرتا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور فرماتے ہیں: و منتقی وہی ہیں کہ خدا سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو منشاء الہی کے خلاف ہیں“۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) حضرت اقدس کا ” تقومی“ یہی ہے اور یہ وہ مضمون ہے جو دیگر شعراء میں نا پید ہے۔اپنے دستور کے مطابق جب ہم نے اس عنوان میں قرآن کریم کے فرمودات کی تلاش شروع کی تو معلوم ہوا که قرآن کریم نے تقوی کے مضامین کو اس تواتر سے بیان کیا ہے کہ شاید ڈیڑھ صد سے زائد مقامات میں اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے۔ہم نے اختصار کے پیش نظر دواہم فرمودات کو اختیار کیا ہے اول فرمان الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة:32) آپ حضرت فرماتے ہیں: پھر دیکھو کہ تقوی کو ایسی اعلیٰ درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی علت غائی اسی کو ٹھہرایا ہے چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے تو یوں ہی فرمایا ہے الم ذلك الكتب لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)